1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب اللباس والزینہ

آنحضرت ا نے عمامہ، ٹوپی،لباس، بالوں وغیرہ میں ہمیشگی کے ساتھ کس طریقہ کو اختیار فرمایاہے

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام کہ نبی پاک ا نے ہمیشگی کس چیز میں اختیار کی ہے؟ عمامہ کے باندھنے میں یا ٹوپی میں اور حضور ا کا ہمیشہ لباس کیا ہوتا تھا؟(۲) اسلامی لباس کیا ہونا چاہیے؟ علاقائی لباس تو بہت ہیں۔(۳) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے بال ہمیشہ رکھے ہیں یا ہمیشہ منڈوائے ہیں؟ سنت کے مطابق بال رکھنے کی کیا مقدار ہے؟(۴) بعض لوگ پٹے رکھتے ہیں جو کہ کندھوں کے برابر ہوتے ہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں اصلاح فرمائیں۔

جواب

حضور ا نے ہمیشگی نہ عمامہ میں اختیار فرمائی ہے نہ ٹوپی میں اکثر اوقات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمامہ باندھا کرتے تھے بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوپی بھی پہنی ہے اور حضور ا لباس میں تکلف نہ فرماتے تھے اور نہ کسی خاص قسم کے لباس کی جستجو فرماتے تھے بلکہ وقت پر جو میسر ہو تا زیب تن فرماتے اکثر اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس چادر اور ازار (تہبند) ہوتا تھا، لیکن لباس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قمیص کو پسند فرماتے تھے، حضورا کا شلوار خریدنا ثابت ہے اور شلوار پہننا اور پسندفرمانااور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کے پہننے کا حکم دینا بھی حدیثوں میں آیا ہے۔ (کما فی زاد المعاد/ ۱ : ۳۹ ومدارج النبوۃ / ۱ : ۸۴)

عن جابر رضی اللہ عنہ : قال دخل النبی ﷺ مکۃ یوم الفتح وعلیہ عمامۃ سوداء (ترمذی/ ۱ : ۳۰۴) روی الطبرانی عن ابن عمر رضی اللہ عنہ مرفوعا کان یلبس قلنسوۃ بیضاء وروی الرویانی وابن عساکر بسند ضعیف عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما انہ کان یلبس القلانس تحت العمائم وبغیر العمائم ویلبس العمائم بغیر القلانس وکان یلبس القلانس الیمانیۃ ومن البیض المضربۃ (مرقاۃ/ ۸: ۱۴۱) عن ابی بردۃ رضی اللہ عنہ قال اخرجت الینا عائشۃ کسائً ملبداً وازاراً غلیظا فقالت قبض رسول اللہ ا فی ھذین (ترمذی/ :۳۰۴) عن عروۃ ابن المغیرۃ بن شعبۃ عن ابیہ رضی اللہ عنہ ان النبی ا لبس جبۃ رومیۃ ضیقۃ الکمین (ترمذی/ ۱:۳۰۶) عن ام سلمۃ رضی اللہ عنھا قالت کان احب الثیاب الی رسول اللہ ا القمیص (ترمذی/ ۱ ، ۳۰۶)

(۲) لباس کے متعلق کسی خاص وضع یا تراش کی پابندی شریعت نے نہیں لگائی البتہ کچھ حدود اس کی بھی مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ ہونا چاہیے، وہ حدود یہ ہیں۔

۱۔ مرد ، شلوار، تہبند اور پائجامہ اتنا نیچا نہ پہنیں کہ ٹخنے یا ٹخنوں کا کچھ حصہ اس میں چھپ جائے۔

۲۔لباس اتنا چھوٹا باریک چست نہ ہو کہ وہ اعضاء ظاہر ہو جائیں جن کا چھپانا واجب ہے۔

۳۔ لباس میں کافروں اور فاسقوں کی نقالی اور مشابہت اختیار نہ کریں۔

۴۔ مرد زنانہ لباس اور عورتیں مردانہ لباس نہ پہنیں۔

۵۔اپنی مالی استطاعت سے زیادہ قیمت کے لباس کا اہتمام نہ کریں۔

۶۔ مالدار شخص اتنا گھٹیا لباس نہ پہنے کہ دیکھنے والے اسے مفلس سمجھیں۔

۷۔ فخرو نمائش اور تکلف سے اجتناب کریں۔

۸۔ لباس صاف ستھرا ہونا چاہیے مردوں کیلئے سفید لباس زیادہ پسند کیا گیا ہے۔

۹۔ مردوں کو اصلی ریشم کا لباس پہننا حرام ہے۔

۱۰۔ خالص سرخ لباس پہننا مردوں کیلئے مکروہ ہے کسی اور رنگ کی آمیزش ہو یا دھاری دار ہو تو مضائقہ نہیں۔

(ماخوذ از ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ ربیع الاول ۱۳۹۷ھ ص:۱۵۸)

۳-۴ : حضور ا نے ہمیشہ بال رکھے ہیں اور نہ ہمیشہ منڈوائے ہیں۔ آپ کی عادت مبارکہ اکثر بال رکھنے کی تھی۔ حج وعمرہ کے دو موقعوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بال نہیں منڈواتے تھے احادیث میں تین طرح بال رکھنے کا ذکر ملتا ہے، وفْرہ ، لِمَّہ ، جُمَّہ ۔ جب بال کانوں کی لو تک ہوں تو ان کو وفرہ کہتے ہیں اور جب ان سے کچھ نیچے ہو جائیں تو ان کو لمّہ کہتے ہیں اور جب کندھوں تک پہنچ جائیں تو ان کو جمّہ کہتے ہیں۔

عن قتادۃ قال:قلت لانس رضی اللہ عنہ کیف کان شعر رسول اللہ ا قال: لم یکن بالجعد ولا بالسبط کان یبلغ شعرہ شحمۃ اذنیہ (شمائل ترمذی ص:۳) وثبت فی الصحیحین عن البراء رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ ا کان یضرب شعرہ الی منکبیہ وجاء فی الصحیح عنہ وعن غیرہ الی انصاف اذنیہ، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: کان شعر رسول اللہ ا فوق الوفرۃ ودون الجمۃ (شمائل الرسول لابن کثیرؒ ص: ۲۳ ۔۲۴) قال النووی: وجہ اختلاف الروایات فی قدر شعرہ اختلاف الاوقات فاذا غفل عن تقصیرھا بلغت المنکب واذا قصرھا کانت الی انصاف الاذنین (حاشیۃ شمائل الترمذی ص۳ ، المواھب اللدنیۃ / ۲ : ۲۹۷) ولم یروانہ علیہ الصلاۃ والسلام حلق راسہ الشریف فی غیر نسک ، حج او عمرۃ فیما علمتہ وبہ جزم ابن القیم فقال : لم یحلق راسہ الا اربع مرات (شرح الزرقانی علی المواھب / ۴ : ۲۱۰)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :907


فتوی پرنٹ