1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب اللباس والزینہ

مردوں کے لیے سرخ لباس کا حکم

سوال

مردوں کیلئے سرخ لباس استعمال کرنا درست ہے یا نہیں ؟ برائے کرم قرآن وسنت سے مسئلہ حل کریں۔

جواب

سرخ لباس کے مردوں کیلئے پہننے کے بارے میں متعدد اقوال ہیں بعض اقوال سے جواز معلوم ہوتا ہے اور بعض سے کراہت معلوم ہوتی ہے اس اختلاف اقوال کی وجہ یہ ہے کہ اس بارے میں روایات مختلف طور پر منقول ہیں چنانچہ ابو داؤد شریف میں منقول ہے۔

عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما قال مر علی النبی ا رجل علیہ ثوبان احمران فسلم علیہ فلم یرد علیہ النبی ا (ابو داود، حدیث:۴۰۶۹)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ا کے پاس سے ایک آدمی گذرا جس نے سرخ رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔

اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرخ لباس کی وجہ سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور اس کو سلام کا جواب نہیں دیا جبکہ دوسری روایت میں ہے۔

عن البراء قال کان رسول اللّٰہ ا لہ شعر یبلغ شحمۃ اذنیہ ورأیتہ فی حلۃ حمراء لم ار شیئا قط احسن منہ (ابو داؤد، حدیث:۷۲۰)

ترجمہ: حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تھے جو آپ کے کانوں کی لو تک پہنچتے تھے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ جوڑے میں دیکھا، میں نے آپ سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا۔

اس روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ جوڑا زیب تن فرمایا۔

بعض علماء فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل سرخ جوڑا نہیں پہنا بلکہ وہ جوڑا ایسا تھا جس میں سرخ دھاریاں تھیں، ان سرخ دھاریوں کی وجہ سے اس کو سرخ لباس کہا گیا اور بعض حضرات کی رائے میں سرخ جوڑا پہننے کی ممانعت اس صورت میں ہے جبکہ عورتوں یا کافروں کی مشابہت مقصود ہو۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں اس سرخ رنگ کے کپڑے کو پہننے کی ممانعت ہے جس کو کسی ناپاک چیز سے رنگا جاتا ہو۔ مذکورہ اقوال احادیث کے درمیان تطبیق کے حوالے سے منقول ہیں۔ اسی کے پیش نظر آئمہ احناف کے اقوال بھی اس بارے میں مختلف ہیں جن میں راجح قول یہ ہے کہ مردوں کیلئے سرخ رنگ کا لباس پہننا مکروہ تنزیہی ہے جس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

قال فی الدر: (و کرہ لبس المعصفر والمزعفر الاحمر والاصفر للرجال) مفادہ انہ لا یکرہ للنساء (ولا بأس بسائر الالوان) وفی المجتبیٰ والقھستانی و شرح النقایۃ لا بی المکارم لا بأس بلبس الثوب الاحمر مفادہ ان الکراھۃ تنزیھیۃ

قال فی رد المحتار: فی جامع الفتاویٰ قال ابو حنیفۃ والشافعی ومالک یجوز لبس المعصفر و قال جماعۃ من العلماء مکروہ بکراھۃ التنزیہ وفی منتخب الفتاویٰ قال صاحب الروضۃ یجوز للرجال والنساء لبس الثوب الاحمر والاخضر بلاکراھۃ فان الحاوی الزاھدی یکرہ للرجال لبس المعصفر والمزعفر والمورس والمحمرای الاحمر حریراً او کان غیرہ اذا کان فی صبغہ دم والا فلا و نقلہ عن عدۃ کتب (۵/۲۵۲)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :912


فتوی پرنٹ