1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الوقف

مسجد کے لئے موقوفہ جگہ میں امام کی رہائش بنانے کا حکم

سوال

ایک مسجد ہے جس کی تین منزلیں ہیں اس کی پہلی منزل اور دوسری منزل نماز کے لئے خاص ہے جبکہ تیسری منزل پر مؤذن یا امام اہل خانہ یعنی بیوی اور بچوں سمیت رہائش رکھ سکتا ہے یا نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ جب متوفی نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تھاتو یہ نیت کی تھی کہ مسجدکے اوپر امام مسجد کا گھر بنائے گا۔

جواب

وہ جگہ جس کو مسجد کے لئے وقف کر دیا جائے وہ ہمیشہ مسجد ہی کی رہتی ہے اس کو مسجد یا مصالح مسجد (بیت الخلائ، وضوخانہ اور امام مسجد کا گھر) کے علاوہ کسی دوسرے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔ اور یاد رہے کہ مسجد مکمل ہوجانے کے بعداس میں امام مسجد کے لئے رہائش وغیرہ بنانا بھی جائز نہیں ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر مسجد مکمل ہونے سے پہلے ہی تیسری منزل پر امام مسجد کے لئے رہائش تعمیر کرنے کامنصوبہ تھا۔ تب تو امام مسجد کی رہائش کے طور پر اس کو استعمال کرنا جائز ہے اور اگر مسجد مکمل ہونے کے بعد متولی نے تیسری منزل پر رہائش بنانے کا ارادہ کیا ہے تو تیسری منزل کو امام کی رہائش کے طور پر استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

لما فی ’’الشامیۃ‘‘ :

لو بنی فوقہ بیتا للامام لایضر لانہ من المصالح اما لو تمت المسجدیۃ ثم اراد البناء منع (۴؍۳۸۵) سعید


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :962


PDF ڈاؤن لوڈ