1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الوقف

دوکانوں پر بنائی گئی مسجد کا شرعی حکم

سوال

ایک آدمی نے اپنی ملکیتی دکانوں پر مسجد تعمیر کر کے اہل محلہ کو اس میں نماز پڑھنے کی اجازت دیدی۔ اور امام متعین کر کے اس کو مبلغ ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیتا رہا۔ جبکہ مسجد کے دیگر تمام اخراجات بشمول بل ہائے بجلی وغیرہ اہل محلہ ہی ادا کرتے رہے۔ کیونکہ اس نے مسجد کووقف فی سبیل اللہ کر دیا تھا اور تقریبا پانچ سال قبل مسجد کے نیچے دونوں دُکانوں میں سے ایک کا کرایہ مسجد پر خرچ کرنے کا وعدہ کیا لیکن تاحال اس نے دکانوں کے کرایہ میں سے مسجد پر کچھ بھی خرچ نہیں کیا۔اب سے کوئی ایک ماہ قبل ذاتی اَنا کے پیش نظر امام مسجد کو بے دخل کر دیا ہے، امام صاحب پندرہ سال سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے اہل محلہ نے اس کے اس رویہ کوناپسندکیا۔ اور اس سے کہاکہ تمام مقتدی امام صاحب کو پسند کرتے ہیں اور ان کے کام سے مطمئن ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ یہ مسجد میری ہے اسے میں نے بنایا ہے اور میں جسے چاہوں امام رکھوں تمہیں اس کے بارے میں بولنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ جو امام اب میں نے مقرر کیا ہے اہل محلہ چاہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ اگر کسی نے زیادہ گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو مسجد کو تالا لگا دوں گا۔مذکورہ صورت حال کے پیش نظر درج ذیل سوالات کے جوابات کتاب و سنت کی روشنی میں ارشاد فرمائیں۔۱۔ کیا یہ جگہ مسجد کا حکم رکھتی ہے اور یہاں نماز جمعہ ادا ہو سکتی ہے یا نہیں؟۲۔ اس جگہ پر رمضان المبارک میں اعتکاف بیٹھنے والوں کے لئے کیا حکم ہے؟۳۔ اس جگہ پر نماز پڑھنے والوں اور رقم خرچ کرنے والوں کو مسجد کا ثواب ملے گا یا نہیں؟۴۔ مسجد کو اپنی ملکیت ظاہر کرنے والے شخص کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

اصل سوال کے جواب سے پہلے تمہید کے طور پر چند باتوں کا معلوم ہونا مناسب ہے۔

۱۔ مسجد شرعی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مسجد کے اوپر اور نیچے والا حصہ بھی مسجد کے لئے وقف ہو۔ اگر اوپر اور نیچے والاحصہ مسجد کے لئے وقف نہ ہو تو وہ شرعی مسجد نہیں کہلائے گی۔

۲۔ جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لئے شہر، قصبہ یا ایسا بڑا گائوں ہونا ضروری ہے جس میں ضروریات کی تمام اشیاء ملتی ہوں اور وہاں بازار ہوں اور حاکم مجاز بھی ہو۔

صورت مسئولہ میں جس مسجد کا ذکرکیا گیا ہے شرعی مسجد نہیں ہے اس لئے کہ اس کے نیچے کی دکانیں مسجد کے لئے وقف نہیں ہیں۔ اس کے درج ذیل احکام ہیں۔

۱۔ اگر یہ مسجد شہر، قصبہ یا ایسے بڑے گائوں میں ہو جس میں جمعہ جائز ہے تو اس مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے۔

۲۔ اس میں رمضان میں اعتکاف کرنے اعتکاف مسنون ادا نہیں ہوگا۔

۳۔ اس میں باجماعت نماز ادا کرنے سے جماعت کا ثواب ملے گا تاہم مسجد شرعی کا ثواب نہیں ملے گا۔

۴۔ اس میں خرچ کرنے سے اللہ رب العزت کے راستہ میں خرچ کرنے کا ثواب ہوگا مگر مسجد کی تعمیر کا ثواب نہیں ہوگا۔

۵۔ جس شخص کی دکان پر یہ مسجد ہے وہ اس کا مالک ہے۔

لما ’’فی البحر الرائق‘‘

وحاصلہ ان شرط مسجدا ان یکون سفلہ وعلوہ مسجدا لینقطع حق الغیر۔ (۵؍۲۵۱)

وفی’’الھندیۃ‘‘

واما شروطہ ومنھا مسجد الجماعۃ فیصح فی کل مسجد لہ اذان واقامۃ۔ (۱؍۲۳۲) مکتبہ رشیدیہ


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :963


فتوی پرنٹ