1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الوقف

مسجد میں بلا ضرورت کسی کا تقرر کرنا

سوال

کمیٹی کا کوئی بھی رکن کسی ایسے شخص کا تقرر کر سکتا ہے کہ جس کی مسجد میں ضرورت بھی نہ ہو اور اس وجہ سے مسجد میں انتشار بھی پھیلتا ہو؟

جواب

مسجد کے فنڈ سے مسجد میں بلا ضرورت کسی شخص کا تقرر کرنا جو انتشار کا باعث بھی ہو جائز نہیں۔

ومما اتفق علیہ أصحاب الفتاویٰ أن القیم استأجر اجیرا للعمارۃ بدرھم و دانق وأجر مثلہ درھم فاستعملہ فی العمارۃ ونقد الاجرۃ من مال الوقف یضمن جمیع مانقد لان الاجارۃ وقعت لا للوقف۔ (البحر الرائق ۵: ۲۰۸)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :969


PDF ڈاؤن لوڈ