1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الوقف

مسجد کا نام تبدیل کرنے کی شرط کے ساتھ تعاون کو مشروط کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایک مسجد مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے جانی جاتی تھی۔ مسجد نعمانیہ، مسجد شاہجہان، موتی مسجد وغیرہ۔ مسجد کے محراب کی جانب اللہ تعالی کے ایک نیک بندہ نے تقریبا ساڑے سات مرلہ جگہ اسی مسجد کی توسیع کے لیے خرید کر وقف کی اور پھر اس حصہ کی تعمیر کی یعنی دیواریں وغیرہ کر کے لینٹر کی پختہ چھت ڈلوائی اور انہوں نے آگے بھی مزید تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھنا تھا اور انہوں نے مسجدکی انتظامیہ و متولی کی اجازت سے اپنی تعمیر شدہ مسجد کا نام اور پرانی مسجد کا نام مسجد نعمانیہ یعنی امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نام پر رکھ دیا اور دوران تعمیر پتھر پر کنندہ کروا کر دیوار پر چسپاںکردیا۔کچھ عرصہ بعد اس مسجد کے پرانے حصہ کو بوسیدہ ہونے کی وجہ سے گرا دیا گیا اس کے بعد ایک دوسرے خدا ترسیدہ نیک صاحب ثروت آدمی تشریف لائے اور انہوں نے انتظامیہ وواقف اول کی اجازت سے مسجد کے پرانے حصہ کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا انہوں نے مسجد کے نئے اور پرانے حصے کو مکمل کروایا اور انتہائی خوبصورت مسجد تعمیر کروائی اور دل کھول کر تعمیر کے اخراجات برادشت کیے اللہ تعالیٰ انہیں دارین میں بہترین جزائے خیر عطافرمائے۔آپ سے دریافت طلب مسئلہ ہے کہ تعمیر جدید کرنے والے شخص کی خواہش ہے کہ اس مسجد کے قدیم و جدید دونوں حصوں کانام مسجد نعمانیہ سے تبدیل کر کے انکی والدہ کے نام پر رکھ دیا جائے تو آئندہ کیلئے مسجد کے جملہ ماہانہ اخراجات بھی وہ برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ واقف اول مسجدکے نام کی تبدیلی پر رضامند نہیں ہے۔ ازروئے شرع بتلائیں کہ مسجد کانام تبدیل کرنا صحیح ہے؟

جواب

مسجد کا نام اسکے تعارف کے لیے رکھا جاتا ہے کسی کے نام پر مسجد کا نام رکھنے سے ثواب میں اضافہ یا نہ رکھنے سے ثواب میں کمی نہیں ہوتی، اللہ کے ہاں اعمال اور تقویٰ کے اعتبار سے ثواب ملتا ہے جب مسجد کا ایک نام معروف ہوچکا ہے اور وہ نام بھی مناسب ہے تو اس نام کو تبدیل کر کے دوسرا نام رکھنے سے لوگوں کے درمیان بلاوجہ تشویش پیدا ہوگی اور ایک بابرکت نام سے بلاوجہ عدول لازم آئے گا نیز اس قسم کی شرائط لگانے میں ریاء کا احتمال غالب ہے اور ریاء کاری اعمال کے ثواب کو ختم کر دیتی ہے جبکہ امید واثق ہے کہ مسجد بنانے والے کی والدہ ثواب سے محروم نہیں بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ شرعی حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا گیا ہو ایسی صورتحال میں مسجد کے اخراجات کو اس شرط کے ساتھ معلق کرنا کہ میری والدہ کے نام پر مسجد کا نام رکھا جائے تو اس کے اخراجات چلاؤں گا ورنہ نہیں چلاؤں گا یہ اخلاص کے منافی معلوم ہوتا ہے جس پر اصرار سے ثواب کے ضائع ہونے کا احتمال ہے لہذا نیک عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ ایصالِ ثواب کیلئے غیر مشروط طور پر اس طرح کے کام کرتے رہیں اور اخلاص نیت کے ساتھ ان کو جاری رکھیں ان کا ثواب ان شاء اللہ ان کو اور ان کی والدہ صاحبہ کو ضرورملے گا۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :970


PDF ڈاؤن لوڈ