1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الوقف

مسجد کے ہفتہ وار چندہ سے بغیر متعین کیے امام صاحب کو تنخواہ دینا

سوال

ایک مولوی صاحب جو کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ و دیگر نمازیں پڑھاتے ہیں مسجد والوں نے ان کے لیے معمولی سی تنخواہ پانچ سو روپے مقرر کی بعد میں یہ سلسلہ ختم ہو گیا تو کیا ہفتہ وار جو چندہ جمع ہوتا ہے اس چندہ سے انہیں کچھ تنخواہ دی جا سکتی ہے؟

جواب

مسجد کے عمومی چندہ سے امام صاحب کو تنخواہ دینا جائز ہے البتہ ان کی تنخواہ کی کوئی مقدار مقرر کرنی چاہیے اگر تنخواہ کی مقدار مقرر نہ کی جائے اور ہر ہفتہ جو چندہ موصول ہو وہ ان کی تنخواہ میں دے دیاجائے تو اس میں مقدار مقرر نہ ہونے کی وجہ سے اجرت میں جہالت ہوگی اور جہالت اجرت اجارہ کے لیے مفسد ہے۔

فی الدر : (ویبد أمن غلتہ بعمارتہ) ثم ماھو أقرب لعمارتہ کامام مسجد ومدرس مدرسۃ یعطون بقدر کفایتھم ثم السراج کذلک الی اخر المصالح

(۴:۳۶۶۔ ۳۶۸)

وفی ’’الشامیہ‘‘:

کون معلومیتھا شرطاً فی الاجارۃ الخ۔ (۵/۳)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :971


فتوی پرنٹ