1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الوقف

مسجد کیلئے وقف زمین کو گھر وغیرہ کیلئے استعمال کرنا

سوال

ایک زمین ہے اور اس میں ایک مسجد تھی میں نے اس زمین کے دوسرے حصہ میں نئی مسجد بنائی ۔ کیا پرانی مسجد کو گھر یا کھیت وغیرہ میں استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

جو جگہ مسجد کے لیے وقف کر دی جائے وہ قیامت تک مسجد رہتی ہے ا س کو مسجد کے علاوہ دوسرے کسی قسم کے استعمال میں لانا جائز نہیںہے البتہ جو جگہ عارضی طور پر نماز کیلئے استعمال ہو باقاعدہ شرعی قواعد کے مطابق وقف نہ ہو اس کو دوسرے استعمال میں لانا جائز ہے لہٰذا صورت مسؤلہ میں اگر سابقہ جگہ مسجد کے لیے شرعاً وقف تھی تو اس کو گھر یا کھیت کے طور پر استعمال میں لانا جائز نہیں اس کے تقدس و احترام کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

لما فی ’اعلاء السنن‘‘ : ۔

باب: اذا خرب المسجد او الوقف لم یعد الی ملک الواقف و لا یباع- ولو خرب ما حول مسجد واستغنی عنہ یبقی مسجد الانہ اسقاط منہ فلا یعود الی ملکہ - اذا ترک الناس الصلاۃ فیہ لا یخرج من ان یکون مسجداً (ص:۲۱۲، ۲۰۹، ج:۱۳)

وفی ’’الشامیۃ‘‘ : ۔

(مطلب فیما لو خرب المسجد او غیرہ) وکذا لو خرب ولیس لہ ما یعمر بہ وقد استغنی الناس عنہ لبناء مسجد اٰخر - فلا یعود میراثاً ولا یجوز نقلہ الی مسجد اٰخرسواء کانوا یصلون فیہ اولا وھو الفتویٰ (الوقف، ص: ۳۵۸، ج:۴)

وفی ’’البحر الرائق‘‘ : ۔

ان الفتویٰ علی قول محمد فی آلات المسجد وعلیٰ قول ابی یوسف فی تابید المسجد (احکام المساجد :ص:۲۵۳ ، ج:۵)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :973


PDF ڈاؤن لوڈ