1. دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
  2. کتاب الوقف

مسجد میں چندہ کرنے کا حکم

سوال

ایک مسجد کے پلاٹ پر کچی مسجد قائم ہے جہاں عیدین اور جمعہ کی نماز ہوتی ہے اورامام مقرر ہے اب پکی مسجد بنانے کا ارادہ ہے مسجد کی تعمیری ضروریات کے لیے چندہ کرنے کی احسن صورتیں کیا ہیں؟اگر موجودہ مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد امام صاحب نمازیوں کے آگے ضروریات پیش کریں تو اس کا کیا احسن طریقہ ہے۔

جواب

مسجد کے لیے چندہ کرنے کی بہتر صورت یہ ہے کہ مسجد سے باہر یا مسجد میںبورڈ وغیرہ پر لکھ کر چندہ کی اپیل کی جائے البتہ اگر اس سے ضرورت پوری نہ ہو اور جمعہ کے دن مسجد میں چندہ کرنے کا زیادہ فائدہ ہو تو مسجد میں درج ذیل شرائط کے ساتھ چندہ کرنے کی گنجائش ہے۔

(۱) لوگوں سے زبردستی چندہ وصول نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی ایسا انداز اختیار کیا جائے جس سے لوگ چندہ دینے پر مجبور ہو جائیں۔ (۲)مسجد میں شوروشغب نہ ہو۔ (۳) مسجد کے احترام کے خلاف کوئی کام نہ ہو۔ (۴)نمازیوں کو تکلیف نہ ہو۔ (۵) لوگوں کی گردنوں کو نہ پھاندا جائے۔

لما فی ’’الشامیہ‘‘ : ۔

والمختار ان السائل ان کان لا یمر بین یدی المصلی ولا یتخطی الرقاب ولا یسأل الحافا بل لامر لابد منہ فلأباس بالسوال والاعطاء ولا یجوز الاعطاء اذا لم یکونوا علی تلک الصفۃ المذکورۃ۔


ماخذ :دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور
فتوی نمبر :974


PDF ڈاؤن لوڈ