1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. ادعیہ / اذکار
  4. اوراد ووظائف

رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد سورہ فتح یا کوئی بھی خاص عمل کرنے کا حکم

سوال

 میرا سوال دو حصوں پر مشتمل ہے، جو مندرجہ ذیل ہے:

1: یہ ہے کہ میں نے بہت سے لوگوں سے سنا اور پڑھا بھی ہے کہ رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد قرآن پاک کی سورۃ فتح کی تلاوت کی جائے تو سارا سال الله پاک آپ کے رزق کا بندوبست کر دیتے ہیں اور سارا سال امن رہے گا وغیرہ وغیرہ کیا کسی کتاب و حدیث سے یہ ثابت ہے یا نہیں؟

2:  ویسے تو ہم سب جانتے ہیں کہ بلا شبہ قرآن کی تلاوت کے لامحدود فضائل و برکات ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ایک خاص دن  ایسا خاص عمل کرنا کیسا ہے؟

جواب

1: ممکن ہے کہ مذکورہ  وظیفہ (یعنی چاند دیکھ کر سورہ فتح پڑھنا)  کسی بزرگ کے مجربات میں سے ہو، اس لیے پڑھنے میں حرج نہیں، البتہ  یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی اس طرح رمضان میں کسی خاص عمل کو کرنے کا  شرعی حکم ہے کہ اس کی پابندی کی جائے، لہٰذا اس کے پڑھنے کو لازم نہ سمجھا جائے۔

2:  احادیثِ  مبارکہ میں جہاں خاص دن قرآن مجید کا خاص حصہ پڑھنے پر فضائل مذکور  ہیں تو  اس دن وہ خاص حصہ پڑھنا چاہے،  جیسے جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے کے بارے میں مختلف فضائل کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے، البتہ رمضان المبارک کا مکمل مہینہ برکتوں والا ہے، مکمل مہینے میں قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنی چاہے، خود آپﷺ رمضان کے مہینے میں قرآن کریم پڑھنے کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

"عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَکَانَ أَجْوَدُ مَا يَکُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ وَکَانَ يَلْقَاهُ فِي کُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ."

ترجمہ: حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ سخی تھے اور خاص طور پر رمضان میں جب جبرائیل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب لوگوں سے زیادہ سخی ہوتے تھے اور جبرائیل آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے اور قرآن کا دور کرتے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھلائی پہنچانے میں ٹھنڈی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔

(صحیح البخاری،  کتاب المناقب، باب صفۃ النبی ﷺ، ج:1، ص:502، ط:نورمحمد کتب خانہ)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144208201530
تاریخ اجراء :12-04-2021

فتوی پرنٹ