1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

جمعہ کے بعد جھولی چندہ کرنا اور ایکسپائز مال کی زکات کا حکم

سوال

 1۔مسجد میں جھولی چندہ کرنا کیسا ہے، جمعہ کی نماز کے بعد جس کی وجہ سے دعا میں تاخیر ہوتی ہے ؟

2۔میری ایک دکان ہے، جس میں تقریبا بیس لاکھ روپے کا مال ہے اور اس مال کے اندربہت سامال  ایکسپائر بھی ہے، اب آیا کہ تمام مال پر زکوۃ آئے گی ایکسپائر مال کے ساتھ  اور ایکسپائری کا معلوم بھی نہیں ہوتا ؟

جواب

1۔دینی  ضرورت کے لیے مثال کے طورپرمسجد یا مدرسہ یا کسی اور دینی مقصد کے لیے اگر چندہ کی ضرورت ہو تو  درج ذیل شرائط کی رعایت کرتے ہوئے مسجد میں چندہ کرنا جائز ہے:

(1) اس سے کسی نمازی کی نماز میں خلل نہ ہو۔

(2)نماز کےبعد سنتوں  میں تاخیر نہ ہو۔

(3)کسی کو تکلیف نہ دی جائے، مثلاً گردن پھلانگنا ۔

 (4) مسجد میں شور وشغب نہ کیا جائے۔

(5) چندہ زبردستی نہ لیا جائے اور چندہ نہ دینے پر  کسی کو عار نہ دلائی جائے۔

تاہم بہتر  یہی ہے کہ چندہ مسجد سے باہر  کیا جائے، اور ضرورت پر مسجد میں صرف اعلان کرلیا جائے۔

نیز  اگر  مساجد اور ان کی ضروریات کے اخراجات کامعقول بندوبست نہ ہو  تو مسجد کے اہلِ محلہ میں سے اہل خیرواصحابِ استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ وہ  اپنی سعادت سمجھتے ہوئے بطیبِ خاطر مسجد کے اخراجات میں اتنا تعاون کریں کہ مسجد کی ضروریات بسہولت پوری ہوسکیں، اور مسجد مسلمانوں کی اجتماعی ضرورت ہے، اس لیے مسلمانوں کےاجتماعی مفاد اور ضرورت کے لیے اس کے لیے مناسب انداز سےمذکورہ بالاشرائط کالحاظ کرتے ہوئےچندہ کرلینا جائز ہے۔

لہذاصورت مسؤلہ میں مسجد کی ضروریات اوراخراجات کے لیےچندہ کرناجائز ہے،لیکن جمعہ کی نماز کے بعدسلام پھیرتے ہی فوراً  چندہ کرنا،جس کی وجہ سےدعااور  سنتوں میں تاخیر ہوتی ہو  مناسب نہیں ہے؛بہتر یہ ہے خطبہ  کی اذان سے قبل  چندہ کرلیا جائے،یاکوئی اورمناسب ترتیب بنالی جائے ،جس سے لوگوں کی نماز میں خلل نہ ہو،اورسنتوں میں تاخیر نہ ہو،مسجد کے خارجی دروازے پر چندہ بکس رکھ لیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويكره تأخير السنة إلا بقدر اللهم أنت السلام إلخ. قال الحلواني: لا بأس بالفصل بالأوراد واختاره الكمال. قال الحلبي: إن أريد بالكراهة التنزيهية ارتفع الخلاف قلت: وفي حفظي حمله على القليلة ...

(قوله إلا بقدر اللهم إلخ) لما رواه مسلم والترمذي عن عائشة قالت كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - لا يقعد إلا بمقدار ما يقول: اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» وأما ما ورد من الأحاديث في الأذكار عقيب الصلاة فلا دلالة فيه على الإتيان بها قبل السنة، بل يحمل على الإتيان بها بعدها؛ لأن السنة من لواحق الفريضة وتوابعها ومكملاتها فلم تكن أجنبية عنها، فما يفعل بعدها يطلق عليه أنه عقيب الفريضة.

وقول عائشة بمقدار لا يفيد أنه كان يقول ذلك بعينه، بل كان يقعد بقدر ما يسعه ونحوه من القول تقريبا...."

(كتاب الصلاة،فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها،1/ 530،ط:سعید)

2۔واضح رہے  كہ ایکسپائر اشیاء مطلقًا مال غیر متقوم نہیں ہیں، بلکہ اگر کسی جائز مقصد میں اس کا استعمال ہوسکتا ہو نقصان دہ نہ ہو اور خریدار کو بتاکر بیچا جائے اور خریدار کے بارے میں یقینی معلوم نہ ہو کہ وہ اس کو دھوکادہی سے فروخت کرے گا تو اس صورت میں اس کی خرید وفروخت  شرعاً جائز ہوتی ہے؛ لہٰذا  ایسا مال  جائز طریقے سےجس قیمت پر  بک  سکتا ہو، اس قیمت کا اعتبار کر کے  اس کی زکوۃ     ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں ایکسپائر مال بتلا کر جائز طریقہ سے ( خلاف قانون اور نقصان دہ نہ ہو ) جس قیمت پر بک سکتا ہو اس کا حساب لگا کر صحیح مال کے ساتھ ایکسپائر مال کی بھی زکواہ ادا کرنا لازم ہے۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن عبد الرحمن بن خباب، قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحث على جيش العسرة فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي مائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله، ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله، ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي ثلاث مائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله، فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عن المنبر وهو يقول: «ما على عثمان ما عمل بعد هذه، ما على عثمان ما عمل بعد هذه."

(سنن الترمذی: (المناقب،رقم الحدیث: 3700،  (5/ 625 ) ط:مصطفیٰ البابی)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"( قوله ويكره التخطي للسؤال إلخ ) قال في النهر : والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء ا هـ ومثله في البزازية. وفيها ولا يجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة."

(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الصلوة، باب الجمعة، مطلب فی الصدقة علی سوال المسجد،(164/2) ط:سعید)

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنةً ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابًا من الورق والذهب، كذا في الهداية."

( كتاب الزكاة، الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض ،الفصل الثاني في العروض،1 / 179،ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144309100805
تاریخ اجراء :16-04-2022

فتوی پرنٹ