1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

روزے کی حالت میں زنا کا کفارہ

سوال

 مجھ سے روزے کی حالت میں زنا ہوگیا  ہے تقریباً 10بجے دن ،اب میں نے 2رکعات نماز کے ساتھ صدق دل سے توبہ بھی کرلی ہے،  اب میں اس سزا سے کیسا بچ سکتا ہوں اور اس کا کفارہ رکھنا ہوگا کہ نہیں؟ البتہ میرا ارادہ نہیں تھا، پر گناہ ہوگیا ہے ۔

جواب

 رمضان میں روزے کی حالت میں زنا کرنا بہت بڑا گناہ ہے،   ''زنا'' عام حالت میں بھی  انتہائی قبیح فعل  اور  بدترین گناہ ہے، حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ : ”شرک کرنے کے بعد اللہ کے نزدیک کوئی گناہ اس نطفہ سے بڑا نہیں جس کو آدمی اُس شرم گاہ میں رکھتا ہے جو اس کے لیے حلال نہیں ہے۔“  اور پھر  رمضان المبارک کے مہینہ  اور روزے کی حالت میں جیسے نیک اعمال کا ثواب بڑھ جاتاہے، اسی طرح گناہوں کی قباحت وشناعت بھی مزید بڑھ جاتی ہے، لہذا  اس کبیرہ گناہ پر  سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، اور اس سے سائل کا   اس دن کا روزہ بھی  فاسد ہوگیا ہے، روزہ کی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں۔

روزے کی قضا  یہ ہے کہ  اس روزہ کے بدلے ایک روزہ رکھنا ہوگا، اور  کفارہ یہ ہے کہ مسلسل بلاناغہ ساٹھ روزے رکھنے  ضروری ہیں، جوان صحت مند آدمی کےلیے کفارے میں روزے چھوڑ کر مسکین کو کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ 

حدیث مبارک میں ہے:

"ما ذنب بعد الشرك أعظم عند الله من نطفة وضعها رجل في رحم لا يحل له. "ابن أبي الدنيا عن الهيثم بن مالك الطائي."

(کنز العمال: 5/ 314، رقم الحدیث 12994۔ الباب  الثانی فی انواع الحدود، ط: موسسة الرسالة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"من جامع عمداً في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولايشترط الإنزال في المحلين، كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعةً، وإن كانت مكرهةً فعليها القضاء دون الكفارة."

(1/ 205، كتاب الصوم، النوع الثاني ما يوجب القضاء والكفارة، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144309101052
تاریخ اجراء :20-04-2022

فتوی پرنٹ