1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ایمان وعقائد
  3. اسلامی عقائد
  4. ذات و صفات و اسماء باری تعالیٰ

علم غیب کا مفہوم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ  دین ومفتیانِ  کرام اس مسئلہ  میں:

دیوبندی اور غیر مقلدین علماء علمِ غیبِ نبی  صلی الله علیہ وسلم کا انکار کرتے ہیں اور جواز میں اَحادیث پیش کرتے ہیں، مگر  سنی بریلوی علماء علمِ غیبِ نبی  صلی الله علیہ وسلم پر عقیدہ رکھتے ہیں اور درج ذیل آیات پیش کرتے ہیں،  جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم غیب جانتے تھے الله کے فضل سے۔  دریافت طلب امر یہ ہے کہ دیوبند و غیر مقلد علماء اس کا انکار کس بنا  پر کرتے ہیں؟  کوئی آیت یا حدیث میں ملتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو علم غیب نہیں تھا ؟ اگر نہیں تھا تو ان دو آیتوں کے بعد کا کوئی واقعہ یا حدیث پاک یا آیات قرانی پیش کریں جس سے پتہ چلے نبی صلی الله علیہ وسلم کو علم غیب الله کی عطا  سے تھا یا نہیں ؟ 

وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا(۱۱۳)

( ترجَمہ : اورتمہیں سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔ )

{وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ  فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ} (۱۷۹)

ترجَمہ :اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگوتمہیں غیب کا علم دے دے،  ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسولوں پر اور اگر ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو تمہارے  لیے بڑا ثواب ہے۔(پ 4، آلِ عمران :179)

جواب

علمِ  غیب اس علم کو کہا جاتاہے جوکسی واسطے کےبغیر، اور بنا کسی کے بتائے حاصل ہو، اور ایسا علم صرف اللہ رب العزت کا ہے، اس کے علاوہ کوئی عالم الغیب نہیں   ہے۔

کفایت المفتی میں ہے:

"علمِ غیب حضرت حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ آں حضرت ﷺ  کو حق تعالیٰ نے اس قدر مغیبات کا علم عطا فرمادیا تھا کہ ہم اس کا  احصار نہیں کرسکتے۔ اور ہمارا عقیدہ ہے کہ آں حضرت ﷺ کا علم حضرتِ  حق تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ  ہے، مگر باوجود اس کے حضور  ﷺ عالم الغیب نہ  تھے؛ کیوں کہ علمِ غیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ بغیر واسطہ حواس اور  بغیر کسی کے بتائے ہوئے حاصل ہو  اور حضور  ﷺ  کا تمام علم حضرتِ  حق  تعالیٰ  کے بتانے سے حاصل ہوا ہے۔  وہ حقیقتًا علمِ غیب ہے اور  نہ حضور ﷺ کو عالم الغیب کہنا درست۔"

لہذا اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالی نے وہ علوم عطا فرمائے تھے  جو کسی کو نہیں دیے گئے ۔لیکن اس کے باوجود  آپ ﷺ کا عالم الغیب ہونا یعنی کہ بذات خود  بلاواسطہ تمام معلومات کا علم ہونا  لازم نہیں آتا،  بلکہ  ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تو علمِ غیب کی نفی کئی آیات میں  صراحت کے ساتھ کی  گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللّٰهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ (الأنعام : 50)
ترجمہ: ”آپ کہہ دیجیے  کہ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں، نہ ہی میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔“ 

سورہ النمل میں  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللّٰهُ  (النمل:65) 

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔

اسی طرح سورہ اعراف میں  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ ۚ وَ لَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (الأعراف:188) 

ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ میں اپنے لیے نہ تو نفع کا مالک ہوں، اور نہ ہی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے، اور اگر میں غیب جانتا تو میں بہت زیادہ خیر حاصل کرتا، اور مجھے برائی چھوتی ہی نہیں، میں تو ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں ایمان والوں کو۔

لہذا سوال میں موجود  دونوں آیات کا  معنی یہ ہے کہ علمِ غیب کا جو  حصہ اللہ  تعالی نے چاہا  وہ رسولِ  پاک ﷺ کو عطا فرمایا، ان آیات کا معنی یہ نہیں کہ مکمل علم غیب اور بلا کسی  دینے والے کے رسول پاک ﷺ کے پاس بطور اپنی صفت کے ہے؛ لہذا رسول اللہ ﷺ عالم لغیب نہیں ،  بلکہ وہ صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔شرح العقائد میں ہے:

"و أسباب العلم للخلق ثلاثة: الحواسّ السلیمة، والخبر الصادق، والعقل.

فالحواس خمس: السمع و البصر و الشم و الذوق و اللمس."

(العقائد النسفیة مع شرحه للتفتازاني، عمر بن محمد بن أحمد بن إسماعيل، أبو حفص، نجم الدين النسفي (م:۵۳۷هـ)، ص:۱۰-۱۳، ط: یاسر ندیم- دیوبند)

النبراس میں ہے:

"والتحقیق أن الغیب ما غاب عن الحواس، والعلم الضروري ، والعلم الاستدلالی،  وقد نطق القرآن بنفي علمه عمن سواہ تعالیٰ ...  وأما ما علم بحاسة، أو ضرورۃ، أو دلیل، فلیس بغیب، ...  و بھٰذا التحقیق اندفع الإشکال في الأمور اللتي یزعم أنھا من الغیب، ولیست منھا،  لکونھا مدرکةً بالسمع أو البصر، أو الضرورۃ، أو الدلیل،  فأحدها أخبار الأنبیاء، لأنھا مستفاد من الوحي، و من خلق العلم الضروري فیھم، أو من انکشاف الکوائن علی حواسھم."

(النبراس، العلامة محمد عبد العزیز الفرهاري، ص:۳۴۳، ط: تھانوی- دیوبند)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100713
تاریخ اجراء :12-02-2022

فتوی پرنٹ