1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

بیوی کا عدالت سے یک طرفہ خلع لینے سے شرعا نکاح ختم نہیں ہوتا

سوال

عدالت عالیہ سے یکطرفہ خلع کی ڈگری لینے سے نکاح ختم ہو جاتا ہے، خاوند کو نوٹس دیے بغیر؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نکاح ختم نہیں ہوتا۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"والخلع جائز عند السلطان وغیره لأنه عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وهو بمنزلۃ الطلاق بعوض."

(باب الخلع،6/ 173،ط:دار الفکر)

 بدائع الصنائع  میں ہے :

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول...."

(کتاب الطلاق،فصل وأماالذی یرجع إلی المرأۃ،3 /145،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100279
تاریخ اجراء :07-02-2022

فتوی پرنٹ