1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

چار بھائیوں اور سات بہنوں میں میراث کی تقسیم

سوال

چار بھائیوں اور سات بہنوں میں میراث کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  چار بھائیوں اور سات بہنوں میں  ترکہ کی تقسیم  کا شرعی طریقہ یہ  ہے کہ سب سے پہلے   مرحوم  کے حقوقِ متقدّمہ یعنی تجہیز وتکفین  کا خرچہ نکالنے کے بعد  اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ  سے ادا کرنے کے بعد اوراگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  میں سے نافذ کرنے کے بعد   باقی کل ترکہ  منقولہ وغیر منقولہ کو 15 حصوں میں تقسیم کرکے ہر بھائی کو 2 حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا۔

تقسیم کا طریقہ درج ذیل ہے۔

میت: 15

 بھائی 

بھائیبھائی بھائیبہنبہنبہنبہنبہنبہنبہن
2222111111

1

یعنی 100 روپے میں سے  ہر بھائی کو 13.333روپے اور ہر بہن کو 6.666روپے  ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100555
تاریخ اجراء :09-02-2022

فتوی پرنٹ