1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

الزانی لاینکح الا زانیۃ۔۔۔الخ اور الخبیثٰت للخبیثین۔۔۔الخ کا مطلب

سوال

ایک زانی مرد ،جو زنا سے سچی پکّی توبہ کر چُکا ہے، کیا اُس کا نکاح، کسی پاک دامن لڑکی سے جائز ہے یا نہیں؟اگر جائز ہے تو سورہ نور کی ان دو آیتوں کا کیا مطلب ہے؟

(1) زانی مرد کے لیے زانیہ عورت ہے اور مومن سے زانی مرد عورت کا نکاح حرام ہے: "اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً  ۡ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ  ۚ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ (3)"

(2) پاک مرد تو صرف پاک عورتوں کے لیے  ہیں: "اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ  ۚ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ  ۚ اُولٰۗىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ  ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ  (26)"

کیا صحابہ کرام سے ایسے زانی کا جو توبہ کر چُکا ہو ،پاک دامن لڑکی سے نکاح کرنا ثابت ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زانی مرد کا کسی پاک دامن عورت سے اور  پاک دامن مردکا کسی زانیہ عورت سے نکاح کرنا   جائز ہے،اور ایسا نکاح، شرعاًمنعقد ہوجاتا ہے،خصوصاًجب زانی مرد یا زانیہ عورت، اپنی اس بُری عادت سے توبہ کرلے، تو ایسی صورت میں تو بالاجماع ان کا نکاح،جائز اور منعقد ہوتا ہے ۔

باقی "سورۂ نور"کی ان دو آیتوں کا جواب شق وار، درج ذیل ہے:

"اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ"

ترجمہ: زانی نکاح بھی کسی کے ساتھ نہیں کرتا بجز زانیہ یا مشرکہ کے اور (اسی طرح) زانیہ کے ساتھ بھی اور کوئی نکاح نہیں کرتا بجز زانی مشرک کے۔ (بیان القران)

1۔آیت مبارکہ کے اس حصہ کامقصد، کسی حکمِ شرعی کا بیان نہیں ہے، بلکہ ایک عام تجربے اور  مشاہدے کا بیان ہےکہ زانی مرد یا زانیہ عورت  کو،زنا کی اس بُری عادت کی وجہ سےعموماًپاک دامن عورتوں اور پاک دامن مردوں میں رغبت نہیں ہوتی، بلکہ زانیہ عورت اور زانی   مردکی طرف رغبت ہوگی، یا پھر کسی مشرک عورت یا مشرک مرد کی طرف رغبت ہوگی، جس کے ساتھ نکاح بھی زنا ہی کے حکم میں ہے۔

2۔امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ آیت مبارکہ میں" نکاح" سے مراد "جماع (زنا)" ہے،اس صورت میں آیت کے اس حصہ کا معنی یہ ہوگا کہ زانی  مرد،زانیہ عورت اور مشرکہ عورت سے ہی زنا کرتا ہےاور اسی طرح زانیہ عورت، زانی مرد اور مشرک مرد سے ہی زنا کرتی ہے۔

"وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ"

ترجمہ:اور یہ (یعنی ایسا نکاح) مسلمانوں پر حرام (موجب گناہ) کیا گیا ہے۔(بیان القران)

1۔آیت کے اس حصہ میں "تحریم" سے مراد"کراہتِ تنزیہی" ہے،اور مبالغۃً اس کو "تحریم" سے تعبیر کیا گیا ہے،اس صورت میں آیت کا معنیٰ یہ ہوگاکہ مؤمن،پاک دامن لوگ ،زانیہ اور مشرکہ عورت سے نکاح کو پسند نہیں کرتے اور ان سے اپنے آپ کو  بچاتے ہیں؛تاکہ   فاسقوں کے ساتھ مشابہت  بھی نہ ہو ان کا نسب بھی عیب جوئی سے محفوظ رہے،اس صورت میں آیت کے اس  حصہ میں اخبار ہے، انشاء نہیں ۔

2۔امام بغوی رحمۃ اللہ کے قول کے مطابق "ذلك" کا مشارالیہ"جماع(زنا)"ہے،تو آیت کے اس حصہ کا معنی ہوا کہ یہ زنا،مؤمنوں پر حرام ہے،اس صورت میں آیت کا یہ حصہ انشاء ہے۔

3۔حضرت سعید بنمسیب رحمۃا للہ علیہ اور مفسرین کی ایک جماعت کے نزدیک یہ حکم ابتداءِ اسلام میں تھا اور بعد ميں " وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ "کی آیت  سے منسوخ ہوچکا ہے۔

مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ معارف القران میں فرماتے ہیں:

"اس آیت کا شروع حصہ،کوئی حکمِ شرعی نہیں ،بلکہ ایک عام مشاہدہ اور تجربہ کا بیان ہے،جس میں زنا کا فعلِ خبیث ہونا اور اس کے اثرات کی دوررس مضرتوں کا ذکر ہے،مطلب آیت کا یہ ہے کہ زنا ایک اخلاقی زہر ہے،اس کے زہریلے اثرات سے انسان کا اخلاقی مزاج ہی بگڑ جاتا ہے،اُسے بھلے،بُرے کی تمییز نہیں رہتی،بلکہ برائی اور خباثت ہی مرغوب ہوجاتی ہے،حلال، حرام کی بحث نہیں رہتی، اور جو عورت اس کو پسند آتی ہے،اس کا اصلی مقصود، اس سے زنا کرنا اور اس کو زنا کاری پر راضی کرنا ہوتا ہے،اگر زنا کے ارادے میں ناکام ہوجاوے تو مجبوری سے نکاح پر راضی ہوتا ہے،مگر نکاح کو دل سے پسند نہیں کرتا، کیوں کہ نکاح کے جو مقاصد ہیں کہ آدمی عفیف ہوکر رہے اور اولادِ صالح پیدا کرے اور اس کے لیے بیوی کے حقوق ،نفقہ وغیرہ کا ہمیشہ کے لیے پابند ہوجاوے،یہ ایسے شخص کو وبال معلوم ہوتے ہیں ،اور چوں کہ ایسے شخص کو دراصل نکاح سے کوئی غرض ہی نہیں؛اس لیے اس کی رغبت صرف مسلمان عورتوں ہی کی طرف نہیں، بلکہ مشرک عورتوں کی طرف بھی ہوتی ہے،اور مشرک عورت، اگر اپنے مذہب کی وجہ سے یا کسی برادری کی رسم کی وجہ سے نکاح کی شرط لگالے، تومجبوراً وہ اُس سے نکاح پر بھی تیار ہوجاتا ہے،اس کی اس کو کچھ بحث ہی نہیں کہ یہ نکاح، حلال اور صحیح ہوگا یا شرعاً باطل ٹھہرے گا،اس لیے اس پر یہ بات صادق آگئی کہ اس کی ،جس عورت کی طرف اصلی رغبت ہوگی، اگر وہ مسلمان ہے تو زانیہ کی طرف رغبت ہوگی، خواہ پہلے سے زنا کی عادی ہو یا اسی کے ساتھ زنا کرکے زانیہ کہلائے،یا پھر کسی مشرک عورت کی طرف رغبت ہوگی، جس کے ساتھ نکاح بھی زنا ہی کے حکم میں ہے،یہ معنی ہوئے آیت کے پہلے جملہ کے، یعنی"اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً"۔

اسی طرح جو عورت، زنا کی خوگر ہواور اس سے توبہ نہیں کرتی، تو سچے مؤمن، مسلمان،جن کا مقصودِ اصلی، نکاح اور نکاح کے شرعی فوائدومقاصد ہیں،وہ ایسی عورت سے متوقع نہیں؛اس لیے ان کو ایسی عورت کی طرف اصلی رغبت نہیں ہوسکتی،خصوصاً جب کہ یہ بھی معلوم ہو کہ یہ عورت، نکاح کے بعد بھی اپنی بُری عادتِ زنا  نہ چھوڑے گی، ہاں ایسی عورت کی طرف رغبت، یا تو زانی کو ہوگی، جس کا اصلی مقصد اپنی خواہش پوری کرنا ہے،نکاح مقصود نہیں، اس میں اگر وہ زانیہ کسی اپنی دُنیوی مصلحت سے اس کے ساتھ ملنے کے لیے نکاح کی شرط لگادے تو بادلِ ناخواستہ، نکاح کو بھی گوارا کرلیتا ہے، یا پھر ایسی عورت کے نکاح پر وہ شخص راضی ہوتا ہے، جو مشرک ہو، اور چوں کہ مشرک سے نکاح بھی شرعاً زنا ہی ہے؛اس لیے اس میں دو چیزیں جمع ہوگئیں کہ مشرک بھی ہے اور زانی بھی، یہ معنی ہیں آیت کے دوسرے جملہ کے، یعنی"وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ

مذکورہ تفسیر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اس آیت میں زانی اور زانیہ سے مراد وہ ہیں، جو زنا سے توبہ نہ کریں اور اپنی اس بُری عادت پر قائم رہیں، اور اگر ان سے کوئی مرد، خانہ داری یا اولاد کی مصلحت سے کسی پاک دامن، شریف عورت سے نکاح کرے یا ایسی کسی نیک مرد سے نکاح کرے تو اس آیت سے اس نکاح کی نفی لازم نہیں آتی، یہ نکاح شرعاً درست ہوجائے گا، جمہور فقہاءِ امت،امام اعظم ابوحنیفہ، مالک، شافعی وغیرہ رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے اور صحابۂ کرام سے ایسے نکاح کرانے کے واقعات ،ثابت ہیں،تفسیر ابنِ کثیر میں حضرت ابنِ عباس کا بھی یہی فتوٰی نقل کیا ہے۔

اب رہا آیت کا آخری جملہ"وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ"،اس میں بعض حضرات مفسرین نے تو "ذلک"کا اشارہ زنا کی طرف قرار دیا ہے، تو معنی اس جملے کے یہ ہوگئے کہ:"جب زنا ،ایسا خبیث، فعل ہے، تو زنا مؤمنین پر حرام کردیا گیا۔

اس تفسیر پر معنی میں توکوئی اشکال  نہیں رہتا، لیکن "ذلک"سے زنا مراد لینا،سیاقِ آیت سے کسی قدر بعید ضرور ہے؛اس لیے دوسرے مفسرین نے"ذلک" کا اشارہ ،نکاحِ زانی وزانیہ اور مشرک ومشرکہ کی طرف قرار دیا ہے،اس صورت میں مشرکہ سے مسلمان مرد کا نکاح اور مشرک سے مسلمان عورت کا نکاح، حرام ہونا تو دوسری نصوصِ قرآنی سے بھی ثابت ہے اور تمام امت کے نزدیک، اجماعی مسئلہ ہے، اور زانی مرد سے پاک دامن عورت کا نکاح یا زانیہ عورت سے عفیف مرد کا نکاح ،حرام ہونا جو اس جملے سے مستفاد ہوگا، وہ اُس صورت کے ساتھ مخصوص ہےکہ عفیف مرد، زانیہ عورت سے نکاح کرکے اس کو زِنا سے نہ روکے، بلکہ نکاح کے بعد بھی اس کی زناکاری پر راضی رہے؛کیوں کہ اس صورت میں یہ "دیّوثیت"ہوگی،جو شرعاً حرام ہے،اسی طرح کوئی شریف، پاک دامن عورت، زنا کے خوگر شخص  سے نکاح کرے اور نکاح کے بعد بھی اس کی زناکاری پر راضی رہے،یہ بھی حرام ہے، یعنی ان لوگوں کا یہ فعل حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اُن کا باہمی نکاح صحیح نہ ہو، باطل ہوجائے۔

لفظِ حرام، شریعت کی اصطلاح میں دو معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے:

1۔ ایک یہ کہ"وہ گناہ ہے، اس کا کرنے والا، آخرت میں مستحقِ سزا ہے اور دنیا میں بھی یہ عمل بالکل باطل اور کالعدم ہے، اس پر کوئی شرعی ثمرہ،احکامِ دنیا کا بھی مرتب نہیں ہوگا"،جیسے:کسی مشرک عورت سے یا جو عورتیں ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، ان میں سے کسی سے نکاح کرلیا، تو یہ گناہِ عظیم بھی ہے اور ایسا نکاح، شرعاً کالعدم ہے، زنا میں اور اس میں کوئی فرق نہیں۔

2۔دوسرے یہ کہ "فعل حرام ہے، یعنی گناہ موجبِ سزا ہے، مگر دنیا میں اس فعل کے کچھ ثمرات رہتے ہیں، معاملہ صحیح ہوجاتا ہے، جیسے: کسی عورت کو دھوکہ دے کر یا اغوا کرکے لے آیا،  پھر شرعی قاعدے کے مطابق، دو گواہوں کے سامنے، اس کی مرضی سے نکاح کرلیا، تو یہ فعل تو ناجائزوحرام تھا، مگر نکاح، صحیح ہوگیا، اولاد،  ثابت النسب ہوگی، اسی طرح زانیہ اور زانی کا نکاح، جب کہ ان کا مقصودِ اصلی، زنا ہی ہو، نکاح، محض کسی دنیوی مصلحت سے کرتے ہوں اور زنا سے توبہ نہیں کرتے، ایسا نکاح، حرام ہے، مگر دنیوی احکام میں باطل، کالعدم نہیں، نکاح کے ثمراتِ شرعیہ:نفقہ، مہر، ثبوتِ نسب اور میراث سب جاری ہوں گے، اسی طرح"لفظِ حرّم"اس آیت میں، مشرکہ کے حق میں پہلے معنی کے اعتبار سےاور زانی اور زانیہ کے حق میں، دوسرے معنی کے اعتبار سے صحیح اور درست ہوگیا۔

اس تفسیر پر آیت کو منسوخ کہنے کی ضرورت نہ رہی؛ جیسا کہ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا ہے۔واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔"

(معارف القران، 352۔6/350، ط: مکتبہ معارف القران)

3۔دوسری آیت:"اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ  ۚ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ  ۚ اُولٰۗىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ ۭلَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ"(النور:26)

ترجمہ: (اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ) گندی عورتیں گندے لوگوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور ستھری عورتیں ستھرے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور ستھرے مرد ستھری عورتوں کے لائق ہوتے ہیں یہ اس بات سے پاک ہیں جو یہ (منافق) بکتے پھرتے ہیں ان (حضرات) کے لیے (آخرت میں) مغفرت اور عزت کی روزی (یعنی جنت) ہے۔(بیان القران)

اس آیت میں بھی  کسی حکمِ شرعی کا بیان نہیں، بلکہ ایک عام ضابطہ کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طبائع میں طبعی طور پر جوڑ رکھا ہے،گندی اور بدکار عورتیں ،بدکار مردوں کی طرف،او ر گندے ،بدکار مرد،گندی،بدکار عورتوں کی طرف رغبت کیاکرتے ہیں، اسی طرح پاک،صاف عورتوں کی رغبت،پاک ،صاف مردوں کی طرف ہوتی ہے،اورپاک، صاف مردوں کی رغبت ،پاک، صاف عورتوں کی طرف ہوا کرتی ہے،اور ہر ایک اپنی رغبت کے مطابق اپنا جوڑ تلاش کرتا ہےاور قدرۃً اس کو وہی مل جاتا ہے۔

جیسا کہ مفتی شفیع صاحب رحمۃاللہ علیہ معارف القران میں فرماتے ہیں:

"اس آخری آیت میں اول تو عام ضابطہ یہ بتلادیا گیاکہ اللہ تعالیٰ نے طبائع میں طبعی طور پر جوڑ رکھا ہے،گندی اور بدکار عورتیں ،بدکار مردوں کی طرف،او ر گندے ،بدکار مرد،گندی،بدکار عورتوں کی طرف رغبت کیاکرتے ہیں،اسی طرح پاک،صاف عورتوں کی رغبت،پاک ،صاف مردوں کی طرف ہوتی ہے،اورپاک، صاف مردوں کی رغبت ،پاک، صاف عورتوں کی طرف ہوا کرتی ہے،اور ہر ایک اپنی رغبت کے مطابق اپنا جوڑ تلاش کرتا ہےاور قدرۃً اس کو وہی مل جاتا ہے۔"

(معارف القران، 6/383، ط:  مکتبہ معارف القران)

2۔بعض مفسرین فرماتے ہیں: کہ"خبیثات "اور "طیبات"،کلمات کی صفت ہے،یعنی آیت مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ بری اورفحش باتیں، بُرے لوگوں کے ہی لائق ہیں، اور پاکیزہ اور بھلی باتیں، پاکیزہ اور نیک لوگوں کے ہی لائق ہیں۔

تفسیرِمظہری میں ہے:

"و لهذه الأية والأحاديث المذكورة احتج أحمد على أنه لا يجوز نكاح الزاني ولا الزانية حتى يتوبا فاذا تابا فلايسميان زانيين- وعند الأئمة الثلاثة نكاح الزاني والزانية صحيح.ففىتفسير هذه الأية قال بعضهم معناه الإخبار كما هو ظاهر الصيغة. والمعنى أن الزاني لأجل فسقه لا يرغب غالبا في نكاح الصالحاتوالزانيةلا يرغب فيها الصلحاء فان المشاكلة علة الألفة والتضام والمخالفة سبب للنفرة والافتراق.وكان حق المقابلة أن يقال والزانية لاتنكح إلا من زان او مشرك لكن المراد بيان أحوال الرجال في الرغبة فيهن لما ذكرنا أنها نزلت في استيئذان الرجال من المؤمنين. وعلى هذا التأويل المراد بالتحريم في قوله تعالى وحرم ذلك على المؤمنين  التنزيه عند أكثر العلماء عبر عنه بالتحريم مبالغة يعنى أن المؤمنين لا يفعلون ذلك ويتنزهون عنه تحاميا عن التشبه بالفساق وسوء المقابلة والمعاشرة والطعن في النسب وغير ذلك من المفاسد وقال مالك يكره كراهة تحريم.

وقال البغوي: قال قوم: المراد بالنكاح الجماع ومعنى الأية الزاني لا يزنى إلا بزانية أو مشركة والزانية لا تزنى إلا بزان أو مشرك وهو قول سعيد بن جبير والضحاك بن مزاحم ورواية الوالبي عن ابن عباس. وقال زيد بن هارون يعنى الزاني إن كان مستحلا فهو مشرك وإن جامعها وهو محرم فهو زان. وعلى هذا أيضا مبنى الكلام على الإخبار- وقال جماعة النفي هاهنا بمعنى النهى وقد قرئ به والحرمة على ظاهرها لكن التحريم كان خاصا في حق أولئك الرجال من المهاجرين الذين أرادوا نكاح الزانيات دون سائر الناس- وهذا القول بعيد جدا لأن الممنوع في الأية ابتداء الزاني عن نكاح الصالحات غير الزانيات وكان حق الكلام حينئذ المؤمن لا ينكح إلا مؤمنة صالحة وأيضا عموم قوله تعالى وحرم ذلك على المؤمنين ينافى تخصيص الحكم برجال مخصوصين- وكان ابن مسعود يحرم نكاح الزانية ويقول إذا تزوج الزاني بالزانية فهما زانيان أبدا- وقال الحسن الزاني المجلود لا ينكح إلا زانية مجلودة والزانية المجلودة لا ينكحها إلا زان مجلود- وروى ابو داود بسنده عن عمرو بن شعيب عن ابى سعيد المقبري عن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا ينكح الزاني المجلود إلا مثله مبنى هذين القولين أن التحريم عام والأية غير منسوخة.

وقال سعيد بن المسيب وجماعة إن حكم الاية منسوخ وكان نكاح الزانية حراما بهذه الاية فنسخها قوله تعالى وأنكحوا الأيامى منكم فدخلت الزانية في أيامي المسلمين- ويدل على جواز نكاح الزانية ما روى البغوي عن جابر أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله إن امرأتى لا تدفع يد لامس قال طلقها قال إني أحبها وهى جميلة قال استمتع بها وفي رواية فأمسكها إذا- كذا روى الطبراني والبيهقي عن عبيد الله بن عمر عن عبد الكريم بن مالك عن أبى الزبير عن جابر وقال ابن أبى جابر سألت أبى عن هذا الحديث فقال حدثنا محمد بن كثير عن معتمر عن عبد الكريم حدثنى أبو الزبير عن مولى لبنى هاشم فقال جاء رجل فذكره ورواه الثوري فسمى الرجل هشاما مولى لبنى هشام ورواه أبو داود والنسائي من طريق عبد الله بن عبيد الله بن عمير عن ابن عباس. وقال النسائي رفعه أحد الرواة إلى ابن عباس وأحدهم لم يرفعه. قال وهذا الحديث أى الموصول ليس بثابت والمرسل أولى بالصواب. ورواه الشافعي مرسلا ورواه النسائي وابو داود من رواية عكرمة عن ابن عباس نحوه قال الحافظ إسناده أصح وأطلق النووي عليه الصحة وأورد ابن الجوزي الحديث في الموضوعات مع أنه أورده بإسناد صحيح وذكر عن أحمد بن حنبل أنه لا يثبت في الباب شيء وليس له أصل..... قال البغوي وروى أن عمر بن الخطاب ضرب رجلا وامرأة في زنى وحرص أن يجمع بينهما فأبى الغلام. وأخرج الطبراني والدار قطنى من حديث عائشةقالت سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل زنى بامرأة وأراد أن يتزوجها فقال الحرام لا يحرم الحلال- وفي مصنفى عبد الرزاق وابن أبى شيبة سئل ابن عباس عن الرجل يصيب من المرأة حراما ثم يبدوله أن يتزوج بها قال أوله سفاح وآخره نكاح."

(التفسیرالمظھري، 445۔6/442، ط: مکتبة الرشدیة۔باکستان)

وفیه أیضاً:

"الخبيثات للخبيثين والخبيثون للخبيثات والطيبات للطيبين والطيبون للطيبات قال أكثر المفسرين معناه الخبيثات من الكلمات يعنى كلمات الذم والتحقير والشتم ونحو ذلك يستحقها الخبيثون من الناس والخبيثون من الناس يستحقون الذم ونحو ذلك والطيبات من الكلمات من المدح والثناء والدعاء يستحقها الطيبون والطيبون يستحقون الطيبات فعائشة تستحق الثناء والصلاة والسلام والدعاء دون ما قيل فيه من الإفك أولئك يعنى عائشة وأمثالها مبرؤن مما يقولون فيهم أهل الإفك من الكلمة الخبيثة. وقال الزجاج الخبيثات من الكلمات ككلمة الكفر والكذب وسب الصحابة وأهل البيت وقدف المحصنات وأمثال ذلك للخبيثين من الناس نحو عبد الله بن أبى لا يتكلم بها الطيبون والخبيثون خلقوا وجبلوا لتلك الكلمات الخبيثة والطيبات من الكلمات كذكر الله وتلاوة القرآن والصلاة والسلام على النبي وأهل بيته والدعاء بالمغفرة للمؤمنين والمؤمنات ميسر للطيبين من الناس والطيبون من الناس خلقوا مستعدين للطيبات من الكلمات- أولئك يعنى الطيبين من الناس مبرءون من ارتكاب ما قاله أهل الإفك ونحو ذلك فهو ذم للقاذفين ومدح للذين براهم الله- وقال ابن زيد الخبيثات من النساء للخبيثين من الرجال يعنى غالبا والخبيثون من الرجال للخبيثات من النساء- والطيبات من النساء للطيبين من الرجال والطيبون من الرجال للطيبات من النساء يعنى في الأغلب … فعائشة طيبة ولذلك اختارها الله تعالى لازدواج رسوله الطيب الطاهر صلى الله عليه وسلم أولئك يعنى عائشة وأمثالها مبرءون مما يقول فيهم أهل الإفك ولو لم تكن عائشة طيبة لما صلحت لمصاحبة النبي صلى الله عليه وسلم فكان هذه الأية بمنزلة البرهان على كذب أهل الإفك."

(التفسیرالمظھري، 485۔6/484، ط: مکتبة الرشدیة۔باکستان)

فقط واللہ أعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307200059
تاریخ اجراء :06-02-2022

فتوی پرنٹ