1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. ادعیہ / اذکار
  4. اوراد ووظائف

قبیح فعل سے بچنے کا وظیفہ

سوال

 میں طالب علم ہوں،بیس سال کا ہوں ، گھر میں بڑا بھائی جو چار سال بڑا ہے ،اس کی  شادی نہیں ہوئی اور اس کی ہوگی تو میری ہوسکے گی ، اس کی دو سال تعلیم کے بعد ہی شادی ممکن ہے ، جب کہ میں بہت زیادہ گرمائش محسوس کرتا ہوں اور شادی کی شدید طلب ہے مگر کہہ نہیں سکتا، ظاہر ہے روزگار اور تعلیم بھی رہتی ہے اور بھائی کی شادی سے پہلے ممکن نہیں، لہذا میں مشت زنی (جو میری ایج  کے سب ہی لڑکے کرتے ہیں میرے خیال سے)  میں مبتلا ہوں اور یہ ایسی گندی لت ہے کہ فحش فلمیں یا فحش خیالات سے ہی پوری ہوتی ہے ، یعنی کئی برائیاں بہت کوشش کی چھوڑنے کی ،  توبہ کی ، مہینہ مہینہ چھوڑی مگر بے سود ،نماز کئی کئی چھوٹ جاتی ہیں ناپاکی کی وجہ سے ، افسوس ہوتا ہے،  مجھے پتا ہے غلط ہوں میں ، اگر کوئی وظیفہ ہو ایمان کی مضبوطی اور پختہ ارادے کا ، میں گناہ چھوڑنا چاہتا ہوں، مگر شادی کے علاوہ ممکن نہیں لگتا چھوڑنا اور وہ ہونی نہیں چار پانچ سال!

جواب

مذکورہ گناہ سے بچنے کے لیے  اس گناہ کے  اسباب مثلاً  غلط خیالات ،بری صحبت  ،تنہائی میں رہنا ،انٹرنیٹ کا غلط استعمال، بدنظری وغیرہ سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، اگر انٹرنیٹ کا استعمال ناگزیر نہیں ہے تو اس کا استعمال بالکل ہی ترک کردیجیے،  اور  یہ خیال بار بار اپنے ذہن میں  لائیں کہ اللہ تعالی مجھے ہر حال میں دیکھ رہے ہیں ،  اس کے  ساتھ  ساتھ کسی اللہ والے کی صحبت اختیار کیجیے،  اور والدین  کو خود کہنا ممکن نہ ہو تو کسی کے ذریعہ سے شادی کا کہہ دیں ،جب تک شادی نہ ہو  کثرت سے  روزے رکھنے کا اہتمام کریں ،اورساتھ ساتھ   سید الاستغفار پڑھتے رہیں۔ سید الاستغفار یہ ہے: 

"اللَّهُمَّ أنْتَ ربِّى لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خلَقْتَنِى وَأنَا عَبْدُكَ، وَأنَا عَلَى عَهْدِك وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أعُوذُ بكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ وَأبُوءُ لَكَ بنِعْمَتِكَ عَلىَّ، وَأعْتَرِفُ بدنُوبِى فَاغْفِرْ لى ذُنُوبى، إنَّهُ لايَغفرُ الذنوب إِلَّا أنْتَ."

ترجمہ: ’’اے اللہ تو ہی میرا رب ہے ، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں،تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں جس قدرطاقت رکھتا ہوں،میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں،اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے کیوں کہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔ "

(جمع الجوامع، الہمزۃ مع الواو، ج:3، ص:294، ط:جمہوریہ مصر)

اور ہر نماز کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر  سات  مرتبہ  "یاقَوِيُّ الْقَادِرُ الْمُقْتَدِرُ قَوِّنِيْ وَقَلْبِيْ"پڑھ کر اپنے آپ پر دم کرے، ان شاء اللہ تعالیٰ اس قبیح فعل سے نجات مل جائےگی۔ فقط اللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100915
تاریخ اجراء :14-02-2022

فتوی پرنٹ