1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. بیع / تجارت
  4. نقد اور ادھار خرید و فروخت کے احکام

گاڑی خریدنے کے بعد نفع رکھ کرآگے قسطوں میں فروخت کرنا

سوال

بندہ ناچیز کا موٹر سائیکل اور کار وغیرہ خرید کر پھر قسطوں میں بیچنے کا کام ہے ،تو اس سے بعض اوقات منافع  بھی لیا جاتا ہے؛ کیوں کہ کافی مدت بعد رقم پوری وصول ہوتی  ہے ،قسطوں  کے ذریعہ، تو اس سے بیچنے والے کا وقت ضائع ہوتا ہے ،تو اس وجہ  سے رقم اور زیادہ منافع لیا جاتا ہے خریدنے والی کی رضا مندی کے ساتھ، تو کیا یہ منافع لینا سود میں شامل ہوگا؟ اور اگر ہوسکے تو خاکسار کو وضاحت کردیں کہ  کس طرح کا نفع اور کس طرح کا کام سود میں شمار ہوگا ؟

جواب

واضح رہے کہ قسطوں پر گاڑی  یا دیگر اشیاء  کی خریدوفروخت چند شرائط کے ساتھ جائز ہے :

1۔قسط  کی  رقم متعین ہو۔

2۔رقم کی ادائیگی کی مدت متعین ہو۔

3۔معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھارکا۔

  اور ایک شرط یہ بھی ہے کہ کسی قسط  کی  ادائیگی  میں  تاخیر  کی  صورت  میں  کسی  بھی  عنوان  سے  اس  میں  اضافہ  وصول  نہ  کیا جائے، اور قسط کے مقررہ وقت سے پہلے ادائیگی کی صورت میں قیمت میں کمی مشروط نہ ہو۔

لہذا صورتِ مسئولہ  میں  اگر سائل    گاڑی خرید کر  اپنے قبضہ اور تحویل میں لے لے اور اس کے بعد (مذکورہ شرائط  کی رعایت کے ساتھ ) اس کوزیادہ قیمت پر فروخت کردے تو یہ جائز ہوگا ،لیکن اگر مذکورہ شرائط کے مطابق معاملہ  نہ کیا جائے تو پھر جائز نہیں ہوگا ۔

"فتاوی شامی" میں ہے:

"لأن للأجل شبهاً بالمبيع، ألاترى أنه يزاد في الثمن لأجله".

( كتاب البيوع، باب المرابحة ۵/ ۱۴۲ ط:سعيد)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع و مطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية و هذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد".

(الناشر: دار المعرفة – بيروت، كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة، ۱۳/۷)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100172
تاریخ اجراء :06-02-2022

فتوی پرنٹ