1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

کمپنی کے وکیل کا مشینری کے مالک سے ڈیلنگ کرتے ہوئے اپنے لیے کمیشن مانگنے کا حکم

سوال

میں مشینری  مختلف کمپنیوں کو کرایہ پر دیتا ہوں،کمپنی والے اپنے کسی بندے کو  ڈیل کرنے بھیجتے ہیں، وہ ہم سے اپنے لیے کمیشن مانگتا ہے، حال آں کہ وہ  کمپنی کی طرف سے وکیل ہوتا ہے تو کیا ہمارا اس کو کمیشن دے کر ڈیل کرنا شرعی طور پر جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ شخص کے لیے اپنا ذاتی کمیشن لے کر  ڈیلنگ کرنا جائز نہیں، خصوصًا جب مذکورہ کام کے لیے  کمپنی کی طرف سے  اس کی تنخواہ مقرر ہو، مذکورہ کمیشن رشوت کےزمرہ میں آتا ہے،اس کالینا اور سائل کے لیےاس کو کمیشن دینا دونو ں جائز نہیں ہے۔

حاشية ابن عابدين میں ہے:

"و لايجوز أخذ المال ليفعل الواجب."

 (كتاب القضاء، مطلب في الكلام على الرشوة و الهدية، 5/ 362،ط:سعید)

مبسوط سرخسي ميں ہے:

"و قوله: لايرتشي المراد الرشوة في الحكم و هو حرام قال صلى الله عليه وسلم: «‌الراشي و المرتشي في النار» و لما قيل لابن مسعود -رضي الله عنه -: الرشوة في الحكم سحت؟ قال: ذلك الكفر، إنما السحت أن ترشو من تحتاج إليه أمام حاجتك."

(كتاب أدب القاضي ،ج:16،ص:67،ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100281
تاریخ اجراء :07-02-2022

فتوی پرنٹ