1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

عمرے پر جانے والے کی زکوۃ و خیرات سے مدد کرنا

سوال

کیا کسی  کی عمرہ پر  جانے کے  لیے زکات خیرات صدقہ سے مدد کی جاسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کا مصرف فقراء ومساکین ہیں، ان کو زکوۃ دینے سے ان کی روز مرہ کی ضروریات پوری ہوں گی ؛لہذا روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فقراء ومساکین کو زکوۃ دینے میں زیادہ اجر وثواب ہے بنسبت ایسی حاجت کے لیے جو ضروری نہ ہو۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں زکوۃ فقراء ومساکین کی روز مرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے دی جائے یہ زیادہ بہتر ہے۔  غریب آدمی کے لیے عمرہ کی ادائیگی سے زیادہ روز مرہ کی ضروریات پوری کرنا زیادہ ضروری ہوتا ہے، تاہم اگر کوئی مستحقِ زکوۃ ہو  اور اس کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے زکوۃ کی رقم دےدی تو  وہ ادا ہو  جائے گی لیکن اسے عمرہ ادا کرنے پر مجبور  نہ کیا جائے، بلکہ  وہ  اپنی مرضی سے اگر چاہے تو عمرہ کر لے، چاہے تو اپنی ضروریات میں استعمال کرے اس کو اختیار ہوگا، تو زکاۃ بھی ادا ہوجائے گی اور عمرہ بھی ۔ 

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 216):

"و في اصطلاح الفقهاء ما ذكره المصنف قوله: (هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي و لا مولاه، بشرط قطع المنفعة عن المملّك كلّ وجه لله".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 344):

"و يشترط أن يكون الصرف (تمليكًا) لا إباحة."

فقط  واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100297
تاریخ اجراء :07-02-2022

فتوی پرنٹ