1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

ناخون پر نیل پالش ہوتے ہوئے غسل کرنے سے غسل کا حکم

سوال

اگر ایک ناخن پر ناخن پالش لگائی ہو، اور لگانے کے بعد ایسے کھرچ کر مٹا دی جائے کے وہ پوری طرح نہ مٹی ہو،بندہ بھول کر اسے مٹائے بغیر غسل کر لے، تو کیا غسل ہو جائے گا؟ جب کہ اسے صاف کرنے کا ارادہ کیا ہو، براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے  کہ وضو یا غسل سے پہلے ناخون پر جمی ہوئی نیل پالش کو مکمل صاف کرنا ضروری ہے، اس لیے کہ نیل پالش کی تہہ ناخن پر جم جاتی ہے اور پانی اس کے نیچے تک نہیں پہنچتا، اور مسئلہ یہ ہے کہ دورانِ غسل جسم میں اگر سوئی کے سر کے برابر بھی جگہ تک پانی نہ پہنچے تو غسل نہیں ہوتا۔

 صورتِ مسئولہ میں جب تہہ والی نیل پالش کو مکمل صاف نہیں کیا گیا ہے، بلکہ کچھ اثرات باقی رہتے ہوئے غسل کیا گیا ہے تو مذکورہ اثرات کے ہوتے ہوئے غسل درست نہیں ہوا، لہذا مذکورہ نیل پالش کو فوری طور پر  ہٹانے کی پوری کوشش کی جائے، اگر نیل ریمور نہ ہونے کی وجہ سے ہٹ نہیں رہی ہو تو کسی اور چیز سے ہٹانے کی کوشش کی جائے، مکمل کوشش کے بعد بھی اگر وہ نہ ہٹے اوراس کا کچھ اثر رہ جائے اور مزید ہٹانے کی صورت میں نقصان پہنچے کا اندیشہ ہو تو جس قدر ہوسکے وہ ہٹانے کے بعد  غسل کرنے سے غسل ہوجائےگا۔

ملحوظ رہے کہ اگر کوئی نیل پالش ایسی ہو جس کا صرف رنگ مہندی کی طرح ناخن پر آتا ہو اور اس کی تہہ ناخن پر نہ جمنے کی وجہ سے پانی اس کے نیچے تک پہنچتا ہو تو ایسی نیل پالش لگے ہونے کی حالت غسل کرنے سے غسل ہوجائےگا۔

فتاویٰ عالمگیری (الفتاوى الهندية) میں ہے:

"في فتاوى ما وراء النهر إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز

وسئل الدبوسي عمن عجن فأصاب يده عجين فيبس وتوضأ قال: يجزيه إذا كان قليلا. كذا في الزاهدي وما تحت الأظافير من أعضاء الوضوء حتى لو كان فيه عجين يجب إيصال الماء إلى ما تحته. كذا في الخلاصة وأكثر المعتبرات.

ذكر الشيخ الإمام الزاهد أبو نصر الصفار في شرحه أن الظفر إذا كان طويلا بحيث يستر رأس الأنملة يجب إيصال الماء إلى ما تحته وإن كان قصيرا لا يجب. كذا في المحيط.

ولو طالت أظفاره حتى خرجت عن رءوس الأصابع وجب غسلها قولا واحدا. كذا في فتح القدير.

وفي الجامع الصغير سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ قال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لا يستطاع الامتناع عنه إلا بحرج والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلا عن الجامع الأصغر.

والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلا عن الوجيز".

(كتاب الطهارة ،الباب الأول في الوضوء،الفصل الأول في فرائض الوضوء، ج:1، ص:04، ط:مکتبہ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100913
تاریخ اجراء :14-02-2022

فتوی پرنٹ