1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

چراگاہ کی گھاس کی خرید و فروخت

سوال

چراگاہ کی گھاس کی خرید وفروخت کیسی ہے؟  شرعًا درست ہے یا نہیں؟ چراگاہ کی زمین کسی کی مملوکہ ہو، مالک  اس کی بھرپور حفاظت  کرتاہو، دوسرے لوگوں کے جانوروں کو اس سے روکتاہو،  دیگر لوگوں کے پاس جانور ہوں،  لیکن ان کے پاس چراگاہ نہ ہو، تو کیا وہ شخص اپنے چراگاہ کی  گھاس دیگر لوگوں پر فروخت کرسکتا ہے؟ شرعًا اس کا کیا حکم ہے؟ اگر شرعًا ایسا کرنا درست نہیں تو کیا کوئی دوسری صورت ہے  کہ جانور والا شخص چراگاہ سےفائدہ اٹھائے،اور چراگاہ والے  کو اجرت مل جائے؟

جواب

جو گھاس بغیر بیج بوئے اور بغیرکھادوپانی دیےزمین میں اُگے، وہ اصلاًمباح ہے، چاہے مملوکہ زمین میں اُگے یا غیر مملوکہ زمین میں اُگے،  کاٹنے سے پہلے اس کی خریدوفروخت جائزنہیں، اسی طرح کسی دوسرے کو کاٹنے سے منع کرنا بھی درست نہیں، البتہ  اگر زمین کے مالک نے باڑھ لگاکر چراگاہ  کو محفوظ کرلیا ہو تو دوسرے لوگوں کو مالک کی اجازت کے بغیر اس کی زمین میں داخل ہونے اور جانوروں کو چرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

زمین کے مالک کےلیے گھاس کی خریدو فروخت کی جائزصورت یہ ہے کہ گھاس کاٹ کرفروخت کرے یاپھرزمین کے جس حصے پر گھاس ہے، وہ حصہ گھاس  کے خریدار کو گھاس کے علاوہ کسی اور منفعت کے لیےاتنے  وقت کے  کرایہ پر دے  جس میں وہ گھاس کاٹ سکے۔

اور اگر مذکورہ زمین کے مالک نے گھاس خود اُگائی ہوتو یہ اُس کی ملکیت  ہوگی، دوسرے لوگوں کے لیے مملوکہ زمین سے اس کی اجازت کے بغیر گھاس کاٹنے کا جانوروں کو چرانے کی اجازت نہیں ہوگی، خواہ اس نے زمین کے گرد باڑھ نہ لگائی ہو، نیز اس صورت میں زمین کے مالک کے لیے گھاس کو کاٹے بغیر بیچنا بھی جائز ہوگا۔

قال العلامة علاؤالدین الکاساني رحمه الله:

"و أما الكلأ الذي ينبت في أرض مملوكة، فهو مباح، غير مملوك، إلا إذا قطعه صاحب الأرض، و أخرج فيملكه، هذا جواب ظاهر الرواية عن أصحابنا. و قال بعض المتأخرين من مشايخنا  رحمهم الله: أنه إذا سقاه، و قام عليه، ملكه، و الصحيح جواب ظاهر الرواية؛ لأنّ الأصل فيه هو الإباحة، لقوله  صلى الله علیه و سلّم: الناس شركاء في ثلاث: الماء، و الكلأ، و النار. و الكلأ:اسم لحشيش ينبت من غير صنع العبد، و الشركة العامة هي الإباحة، إلا إذا قطعه و أحرزه؛ لأنه استولى على مال مباح غير مملوك، فيملكه كالماء المحرز في الأواني ،والظروف ،وسائر المباحات التي هي غير مملوكة لأحد."

(بدائع الصنائع :6/193)

قال العلامة ابن عابدین رحمه الله:

"الكلام في الكلأ على أوجه، أعمها: ما نبت في موضع غير مملوك لأحد، فالناس شركاء في الرعي و الاحتشاش منه كالشركة في ماء البحار. و أخص منه: و هو ما نبت في أرض مملوكة بلا إنبات صاحبها، و هو كذلك، إلا أنّ لربّ الأرض المنع من الدخول في أرضه، و أخص من ذلك كله: و هو أن يحتشّ الكلأ أو أنبته في أرضه، فهو ملك له، و ليس لأحد أخذه بوجه لحصوله بكسبه، ذخيرة و غيرها ملخّصًا ... (قوله: فیقال للمالك إلخ) أي: إن لم یجد كلأ في أرض مباحًا قریبًا من تلك الأرض ط عن الهندیة: و هذا إذا كان الكلأ نابتًا في ملكه بلا إنباته و لم یحتشّه."

(رد المحتار:6/440)

قال العلامة أبو الحسن علي بن أبي بکر المرغیناني رحمه الله:

 

"(و يجوز استئجار الأراضي للزراعة)؛ لأنها منفعة مقصودة معهودة فيها ... (و لايصحّ العقد حتى يسمي ما يزرع فيها)؛ لأنها قد تستأجر للزراعة و لغيرها، و ما يزرع فيها متفاوت، فلا بدّ من التعيين كي لاتقع المنازعة (أو يقول: على أن يزرع فيها ما شاء)؛ لأنه لما فوض الخيرة إليه ارتفعت الجهالة المفضية إلى المنازعة." (الھدایة: 3/233)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144305100483
تاریخ اجراء :21-12-2021

فتوی پرنٹ