1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

مسبوق کا اپنی باقی ماندہ نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد قراءت چھوڑدینا

سوال

 اگر مسبوق اپنی باقی ماندہ نماز میں قراءت والی رکعت کے بجائے خالی رکعت پہلے پڑھ لےتو اس پر سجدہ سہو واجب ہے کہ نہیں ؟

 

جواب

مسبوق (جس کی کوئی رکعت امام کے ساتھ ادا کرنے سے رہ گئی ہو) اپنی بقیہ نماز میں امام کے دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہوکر پہلے ثناء،  پھر سورۂ فاتحہ، فاتحہ  کے بعد کوئی سورت پڑھ کر رکوع کرے گا۔  اگر ایک رکعت رہ گئی ہو تو ایک رکعت کے بعد سلام پھیر دے گا، اور اگر دو رکعت رہ گئیں ہوں تو امام کے دونوں سلام کے بعد مسبوق اپنی دونوں رکعات میں سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سورت بھی پڑھے گا۔ اور اگر تین رکعات رہ گئی ہوں تو پہلی دو رکعات میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورت بھی پڑھے گا جب کہ تیسری رکعت میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھے گا، اور اگر چاروں رکعات رہ گئی ہوں تو پہلی دو رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت یا آیات کی تلاوت کرے گا اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھے گا۔

نیز مسبوق کو  جس رکعت میں  سورۂ فاتحہ کے بعد قراءت کرنی تھی ، اس میں اگر  اس نے قراءت ترک کردی تو واجب کے چھوڑنے کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

''ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد؛ فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما، وبرابعة الرباعي بفاتحة فقط، ولا يقعد قبلها۔''

و في الرد:'' وفي الفيض عن المستصفى: لو أدركه في ركعة الرباعي يقضي ركعتين بفاتحة وسورة ثم يتشهد ثم يأتي بالثالثة بفاتحة خاصة عند أبي حنيفة. وقالا: ركعة بفاتحة وسورة وتشهد ثم ركعتين أولاهما بفاتحة وسورة وثانيتهما بفاتحة خاصة اهـ. وظاهر كلامهم اعتماد قول محمد''

(رد المحتار (1/ 596) ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144212202357
تاریخ اجراء :09-08-2021

فتوی پرنٹ