1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. بیع / تجارت
  4. بیع صحیح ، فاسد اور باطل

جس وارث کا ذہنی توازن درست نہ ہو اس کا حصہ فروخت کرنا

سوال

میرے والد صاحب نے ایک مکان خریدا اور اس میں چار پورشن تھے، تین پورشن انہوں نے ہم تین بھائیوں کے نام کردیے اور ہر ایک کو قبضہ بھی دے دیا، 2005ء میں والد صاحب کاانتقال ہوگیا ، والد صاحب جس پورشن میں رہتے تھے، اس کی ہم تین بھائیوں نے ملکیت لے لی ، وہ اس طرح کہ والد صاحب کا ایک پلاٹ گلشنِ کنیز فاطمہ میں تھا، اس کو ہم نے بیچا اور اس میں سے تین بہنوں کو الگ الگ حصہ دیا اور پھر والد صاحب کا جو پورشن تھا ا س کی مالیت لگا کراس میں بہنوں کا جو حصہ بنتا تھاوہ دے دیا ، اور پھریہ والدصاحب والا پورشن ہم تین بھائیوں نے  اپنی ملکیت میں لے لیا  اور پھر ہمارے حصے کی رقم پلاٹ میں سے بچی تو ہم نے اس مکان کی از سرِ نو تعمیر میں لگادی، او ریہ بات سب کو معلوم ہے اور یہ تقسیم تمام ورثاء کی رضامندی سے ہوئی ہے۔

 اب معلوم یہ کرنا ہے کہ میرا ایک چھوٹا بھائی ہے، جس کی عمر تقریباً 60 سال ہے، جس کا ذہنی توازن صحیح نہیں ہے، والد صاحب کے انتقال کے بعد سے وہ میرے ساتھ ہیں وہ غیر شادی شدہ ہیں، اور ایک میری ہمشیرہ بیوہ ہیں، وہ بھی میرے ساتھ ہی رہتی ہیں۔

اب مکان کی فروخت کا ارادہ ہورہا ہے، جو کہ سارے پورشن اکٹھے ہی فروخت ہوں گے، تو معلوم یہ کرنا ہےکہ جو بھائی میرا غیر شادی شدہ  جن کا ذہنی توازن صحیح نہیں  ہے، ان کا حصہ جو بنے گاوہ میں اپنے حصے کے ساتھ ملا کر اکٹھا مکان خرید لوں ؟ اس مکان میں باقاعدہ ان کا حصہ ہوگااور کا غذات میں بھی ان کا نام لکھا جائےگاتو آیا ایسا کرنا شرعا ً جائز ہے یا نہیں ؟کیوں کہ وہ اکیلے نہیں رہ سکتا۔

اور دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی ایسا مکان خریدا جائے جو میرےمکان کے ساتھ ملا ہوا ہو تاکہ ان کی خدمت اور دیکھ بھال کی جاسکے کیوں کہ وہ اکیلے تو نہیں رہ سکتے  تو شرعاً جو بھی جائز صورت ہو اس میں ہماری راہ نمائی فرمادیں۔

تنقیح :

۱۔مذکورہ تقسیم تمام ورثاء کی رضامندی سے ہوئی تھی ؟ہر ایک وارث عاقل بالغ تھا ؟

۲۔جس بھائی کا ذہنی توازن درست نہیں ، ان کی کیا کیفیت ہے؟کیا جنون کی حد تک ذہنی توازن ٹھیک نہیں ؟

۳۔مذکورہ بھائی جس کا ذہنی توازن درست نہیں، اس کی دیکھ بھال کیا والد مرحوم کی زندگی میں بھی آپ کے سپرد تھی ؟

جواب تنقیح :

۱۔مذکورہ تقسیم تمام ورثاء کی رضامندی سے ہوئی ہے،ہر ایک عاقل بالغ تھااور والد صاحب کے پورشن کی رقم بہنوں کو ان کے حصے کے مطابق ان کی رضامندی سے دی ہے۔

۲۔ذہنی توازن  جنون کی حد تک نہیں ، بلکہ وہ چلنے سے قاصر ہیں، باقی ذہنی توازن مکمل خراب نہیں، بلکہ اچھے برے کی تمیز کرسکتے ہیں، انٹر تک کی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے، مجنون کے درجے کے نہیں، البتہ ایک عرصے سے میڈیسن استعمال کرتا ہے، دوائیاں چھوڑتا ہے تو توازن بگڑتاہے،وہ اپنا نفع نقصان سب سمجھتا ہے، خرید و فروخت اور دستخط وغیرہ کرنا سب جانتاہے۔

۳۔والد صاحب کی حیات میں بھی اس بھائی کی دیکھ بھال میرے سپرد تھی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے مذکورہ بھائی خرید و فروخت اور اپنے نفع و نقصان کے معاملات کو جانتے ہیں، ذہنی توازن اس حد تک خراب نہیں کہ انہیں مجنون قرار دیا جائے، تو اس صورت میں سائل کو چاہیے کہ تمام ورثاء کی رضامندی سے مذکورہ مکان کو فروخت کرنے کے بعد مذکورہ ترکے کے مکان میں اِس بھائی کا جو حصہ بنتا ہے اس حصے کو اِس بھائی کی اجازت کے ساتھ اپنے حصے کے ساتھ شامل کرکے ایک مشترکہ مکان خرید لے، یعنی مذکورہ بھائی جب اجازت دینے اور منع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کی اجازت سے سائل کے لیے اس کے حصے کی رقم کو اپنے حصے کے ساتھ ملاکر مشترکہ مکان خرید سکتا ہے،شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ، اور جو مکان خریدا جائے اس  کے کاغذات میں مذکورہ بھائی کا نام بھی  شامل کردیا جائےاورہیہ بھائی اس مکان میں اپنی رقم کے بقدر حصہ دار ہوں گے،ان کی زندگی میں ان کی اجازت کے بغیر ان کے حصے میں کسی کو تصرف کااختیار نہیں ہوگا،البتہ ان کے انتقال کی صورت میں ان کا حصہ ان کے جو ورثاءحیات ہوں گے ان سب میں شرعی حصوں کے موافق تقسیم ہوگا۔

اور اگر مذکورہ بھائی اپنے حصے کی رقم سے سائل کو مشترکہ مکان خریدنے کی اجازت نہ دیں تو سائل اپنے اس بھائی پر جبر نہیں کرسکتا، نیز اگر مذکورہ بھائی اپنے حصے کی رقم سے علیحدہ مکان کا مطالبہ کرے  تو اس صورت میں علیحدہ مکان کا انتظام کرنا لازم ہوگا،حاصل یہ ہے کہ مذکورہ بھائی چوں کہ شرعاً مجنون نہیں، اپنے معاملات و تصرفات کو جانتا اور سمجھتا ہے اس لیے اس کی اجازت سے سائل مشترک مکان خرید سکتا ہے، اور اگر وہ اجازت نہ دے تو جبری طور پر اس کے حصے کی رقم کو سائل اپنی رقم کے ساتھ ملاکر مشترکہ مکان خریدنے کا حق نہیں رکھتا۔

شرح المجلۃ لسلیم رستم باز میں ہے:

"لايجوز لأحد أن يتصرف في ملك غيره بلا إذنه أو وكالة أو ولاية و إن فعل كا ضامنًا."

(ج:1، ص:61، رقم المادۃ:96،ط :حبیبیہ کوئٹہ)

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة ٩٦) : لايجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. (المادة ٩٧) : لايجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي".

(المقالة الثانية فی بیان القواعد الکلیة الفقهية، ص:27، ط:نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب)

درر الحكام شرح مجلة الأحكام ميں هے  :

"لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره".

(المادة: 1192،   1/ 473  ط:دار الکتب العلمية)

فقط والله أعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144311101895
تاریخ اجراء :27-06-2022

فتوی پرنٹ