1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

ارطغرل ڈرامہ دیکھنے/ آگے شیئر کرنے کا حکم

سوال

1- سلطنت عثمانیہ پر بناۓ جانے والے ڈرامے ارتغرل ڈرامہ/ عثمان ڈرامہ / یا اور دیگر ڈرامہ جنہیں لوگ تاریخ اسلام پر مبنی ڈرامے کہتے ہیں (تصویر  سے متعلق ہمیں علم ہے کہ ناجائز ہے اس سے ہٹ کر بات کر رہاہوں) کیا ان کو اسلامی ڈرامہ کہنا صحیح ہے ؟

2- ان میں عشق معشوقی سے نکاح تک کا سین اور دیگر خرافات ہیں دین کی بات بھی ڈرامہ میں کی جاتی ہے کیا اس طرح ڈرامہ کو آگے شئیر کرنے سے بندہ گناہ گار ہو گا ؟

3: میرا بہت عزیز دوست ماموں کا بیٹا ہے، وہ ڈرامہ شئیر کر چکا ہے، اسکا سوال آپ تک پہنچا رہاہوں،  جائز ہے تو ٹھیک ہے اگر جائز نہیں اب وہ تو آگے شاید شئیر ہو رہا ہو گا توبہ کا کیا طریقہ ہے ایسا نا ہو مرنے کے بعد اس کا گناہ مجھ تک پہنچتا رہے؟

جواب

1: صورتِ مسئولہ میں  مذ کورہ ڈرامہ یعنی ارطغرل نامی ڈرامہ ہو  یا کوئی بھی ڈرامہ یا فلم ہوشرعی طور پرمختلف حرام امور یعنی موسیقی، ویڈیوز، اور عورتوں کی تصاویر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے دیکھنا ہی فی نفسہ حرام ہے اور اس کا آگے شیئر کرنا بھی حرام ہے۔

2:  ڈراموں کو آگے شیئرکرنا اور لوگوں کو اس کی ترغیب دینا اشاعتِ فاحش، و  معاونت علی الاثم کے قبیل سے ہےجس میں دیکھنے والا خود تو گناہ گار ہے ہی دوسروں کو بھی گناہ میں مبتلا کرنے والا ہے، اور اس شخص کی ترغیب کی وجہ سے جتنے لوگ ڈراما  دیکھیں گے،سب کے گناہ میں یہ شخص برابر شریک ہوگا، جیسے کہ حدیث شریف میں مروی ہے:

"وعن جرير قال:وذکر الحدیث فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سن في الإسلام سنة حسنة فله أجرها وأجر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أجورهم شيء ومن سن في الإسلام سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده من غير أن ينقص من أوزارهم شيء» . رواه مسلم."

(مشکوۃ المصابیح، کتاب العلم، الفصل الاول، رقم الحدیث:210، ج:1، ص:72، ط:المکتب الاسلامی)

ترجمہ: حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو آدمی اسلام میں کسی نیک طریقہ کو رائج کرے تو اسے اس کا بھی ثواب ملے گا اور اس کا ثواب بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کرے لیکن عمل کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس آدمی نے اسلام میں کسی برے طریقہ کو رائج کیا تو اسے اس کا بھی گناہ ہوگا اور اس آدمی کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا۔ لیکن عمل کرنے والے کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

بہرحال فی نفسہ اس طرح کے پروگرام اور ڈرامے دیکھنے سے ہی مکمل اجتناب کرنا چاہیے، اور آگے شیئر کرنے سے تو گناہوں پر مزید سنگین گناہ ہے۔

3:مذکورہ گناہ کی سزا سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس پلیٹ فارم مثلاً فیس بک یا واٹس ایپ یا دیگر کسی گروپ میں شیئر کیا ہے وہاں سے فوراً ڈلیٹ کردے، اور   اپنے مذکورہ فعل اور  گزشتہ گناہوں پر ندامت وپشیمانی کرتے ہوئے صدقِ دل سے آئندہ مذکورہ گناہ نہ کرنے کے عزمِ صمیم کے ساتھ  توبہ واستغفار کرنا چاہیے،امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما ہی دیں گے۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ خلافتِ عثمانیہ کی تاریخ جاننا ایک قابلِ تحسین عمل ہے تاہم اس تاریخ کو  جاننے کے لیے مستند کتبِ تاریخ سے استفادہ کیا جاسکتاہے، اور اسلامی تاریخ پڑھنے کے لیے مستند اور جائز ذرائع کو ہی اختیار کرنا چاہیے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ".

( كتاب الصلاة، مطلب: مكروهات الصلاة، ج:1، ص:667، ط: سعيد)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

 "(وعن نافع - رضي الله عنه - قال: كنت مع ابن عمر في طريق، فسمع مزمارا، فوضع أصبعيه في أذنه وناء) : بهمز بعد الألف أي: بعد (عن الطريق إلى الجانب الآخر) أي: مما هو أبعد منه (ثم قال لي: بعد أن بعد) : بفتح فضم أي: صار بعيدا بعض البعد عن مكان صاحب المزمار (يا نافع! هل تسمع شيئا؟) أي: من صوت المزمار (قلت: لا، فرفع أصبعيه من أذنيه، قال) : استئناف بيان وتعليل بالدليل (كنت مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فسمع صوت يراع) : بفتح أوله أي: قصب (فصنع مثل ما صنعت) أي: من وضع الأصبعين في الأذنين فقط، أو جميع ما سبق من البعد عن الطريق ومراجعة السؤال والله أعلم. (قال نافع: وكنت إذ ذاك صغيرا) : ولعل ابن عمر أيضا كان صغيرا فيتم به الاستدلال والله أعلم بالحال، مع أنه قد يقال إنه أيضا كان واضعا أصبعيه في أذنيه، فلما سأله رفع أصبعيه فأجاب وليس حينئذ محذور، فإنه لم يتعمد السماع، ومثله يجوز للشخص أن يفعل أيضا بنفسه إذا كان منفردا، بل التحقيق أن نفس الوضع من باب الورع والتقوى ومراعاة الأولى، وإلا فلا يكلف المرء إلا بأنه لم يقصد السماع لا بأنه يفقد السماع والله أعلم.".

( باب البیان والشعر ، الفصْل الثالث، ج:9، ص:51، ط: مكتبه حنيفيه )

تفسير القرآن العظیم والسبع المثانی (روح المعاني)  میں ہے:

"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ...

أخرجه ابن مردويه عن ابن عباس قال: «قال معاذ بن جبل: يا رسول الله ما التوبة النصوح؟ قال: أن يندم العبد على الذنب الذي أصاب فيعتذر إلى الله تعالى ثم لا يعود إليه كما لا يعود اللبن إلى الضرع»...

وقال الإمام النووي: التوبة ما استجمعت ثلاثة أمور: أن يقلع عن المعصية وأن يندم على فعلها وأن يعزم عزما جازما على أن لا يعود إلى مثلها أبدا فإن كانت تتعلق بآدمي لزم رد الظلامة إلى صاحبها أو وارثه أو تحصيل البراءة منه، و ركنها الأعظم الندم.

و في شرح المقاصد قالوا: إن كانت المعصية في خالص حق الله تعالى فقد يكفي الندم كما في ارتكاب الفرار من الزحف وترك الأمر بالمعروف، وقد تفتقر إلى أمر زائد كتسليم النفس للحد في الشرب وتسليم ما وجب في ترك الزكاة، ومثله في ترك الصلاة وإن تعلقت بحقوق العباد لزم مع الندم، والعزم إيصال حق العبد أو بدله إليه إن كان الذنب ظلما كما في الغصب والقتل العمد، ولزم إرشاده إن كان الذنب إضلالا له، والاعتذار إليه إن كان إيذاء كما في الغيبة إذا بلغته و لايلزم تفصيل ما اغتابه به إلا إذا بلغه على وجه أفحش".

(سورة التحريم، رقم الآية:08، ج:14، ص:352، ط:داراحىاء التراث العربى)

فقط والله أعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144310101366
تاریخ اجراء :29-05-2022

فتوی پرنٹ