1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

طلاق نامہ پر شوہر کے دست خط ہونا یقینی نہیں

سوال

میری بیٹی کو اس کے شوہر کا بھائی  طلاق کے پیپر دیتا ہےکہ تمہیں طلاق ہوگئی  جب کہ یہ تصدیق بھی نہیں کہ دستخط اس نے کیے ہیں یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر   شوہر کے بھائی نے طلاق کے پیپر شوہر  کے کہنے پر  بنوائے ہوں  تو شرعا اس سے طلاق ہوجائے  گی خواہ شوہر نے دستخط  کیے ہوں یا نہ کیے ہوں ،یا شوہر کے کہنے پر نہیں بنوائے ہوں لیکن  شوہر نے طلاق نامہ پر  دستخط کردیا یا اس طلاق نامہ کا اقرار کرلیا تو اس صورت میں بھی طلاق ہوجاتی ہے ،البتہ اگر شوہر نے نہ طلاق نامہ بنوایا  نہ دستخط کیے نہ اقرار کیا اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی، شوہر سے صورت حال کی تحقیق کرلی جائے اس کے بعد یقینی جواب دیا جاسکے گا۔

"عن حماد قال: إذا کتب الرجل إلی امرأته -إلی- أمابعد! فأنت طالق فهي طالق، وقال ابن شبرمة: هي طالق".

(المصنف لابن أبي شیبة، کتاب الطلاق، باب في الرجل یکتب طلاق امرأته بیده، مؤسسة علوم القرآن ۹/۵۶۲، رقم: ۱۸۳۰۴)

فتاوی شامی میں ہے:

’’ولو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع قضاءً لا ديانةً‘‘.

(3 / 236،  کتاب الطلاق، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144311100133
تاریخ اجراء :02-06-2022

فتوی پرنٹ