1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

نابالغ کے اعتکاف کا حکم

سوال

مسنون اعتکاف میں اگر نابالغ بیٹھے تو اس کا اعتکاف نفل ادا ہوگا یا مسنون ادا ہوگا؟ ‏علم الفقہ اور مسائل رفعت قاسمی میں نابالغ کا اعتکاف جائز قرار دے رہے ہیں جبکہ فتاویٰ رحیمیہ و اعتکاف کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا مفتی انعام الحق قاسمی صاحب کہتے ہیں مسنون ادا نہیں ہوگا بلکہ نفل ادا ہوگا دونوں باتوں میں کیا تعارض ہے واضح فرمادیں۔

جواب

نابالغ لڑکے کے اعتکاف میں بیٹھنے کے سلسلے میں مذکورہ کتب مسائل رفعت قاسمی اور اعتکاف کے مسائل کا انسائکلوپیڈیا/ فتاویٰ رحیمیہ میں کوئی تعارض نہیں ہے، مسائل رفعت قاسمی نامی کتاب میں نابالغ لڑکے کے اعتکاف میں بیٹھنے کو جائز قرار دیا گیا ہے، اور اعتکاف کے مسائل کا انسائکلو پیڈیا میں بھی جواز کا قول مذکورہے کیوں کہ نابالغ بھی عبادت کا اہل ہے البتہ   روزے کی طرح ان کا اعتکاف بھی نفلی ہوگا۔

بدائع الصنائع  میں ہے:

"وأما شرائط صحته فنوعان: نوع يرجع إلى المعتكف، ونوع يرجع إلى المعتكف فيه.

أما ما يرجع إلى المعتكف فمنها: الإسلام والعقل والطهارة عن الجنابة والحيض والنفاس، وإنها شرط الجواز في نوعي الاعتكاف الواجب والتطوع جميعا؛ لأن الكافر ليس من أهل العبادة.

وكذا المجنون؛ لأن العبادة لا تؤدى إلا بالنية وهو ليس من أهل النية.

والجنب والحائض والنفساء ممنوعون عن المسجد وهذه العبادة لا تؤدى إلا في المسجد وأما البلوغ فليس بشرط لصحة الاعتكاف فيصح من الصبي العاقل؛ لأنه من أهل العبادة، كما يصح منه صوم التطوع".

( کتاب الاعتکاف، فصل شرائط صحة الاعتكاف،  ج:2، ص:108، ط:دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144310100091
تاریخ اجراء :09-05-2022

فتوی پرنٹ