1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. ملازمت
  4. جائز اور ناجائز ملازمت

بینک سے قرض لینے والی کمپنی میں ملازمت

سوال

 میں سگریٹ کمپنی میں کام کرتا ہوں، اس کمپنی میں جتنی مشین لائی گئی ہیں، وہ کیش پر نہیں لائے، بلکہ اس کیلئے بینک سے لون لیا ہے، چنانچہ ابھی ہم تو اس کمپنی میں کام کرتے ہیں، اپنی مزدوری کرتے ہیں، چنانچہ ہماری تنخواہ حلال ہے یا حرام یا مکروہ؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ کمپنی کا سودی معاہدہ کرنا اور سود کی بنیاد پر قرضہ لینا ناجائز اور حرام ہے،کمپنی مالکان شرعاً گناہگار ہیں، سود کی تمام وعیدات میں داخل ہیں،لیکن چونکہ سگریٹ اور تمباکو کا کاروبار مکروہ تنزیہی ہے، لہذا آپ کے لیے اس کمپنی میں ملازمت کرنا  کراہت سے خالی نہیں البتہ اس کمپنی سے اپنے کام کی تنخواہ لینا جائز ہے، تاہم سائل کو چاہیے کہ کوئی دوسرا حلال ذریعہ معاش تلاش کرے اور حلال روزی ملنے تک یہ ملازمت کرتا رہےاور دوسری حلال جگہ ملازمت ملتے ہی یہ ملازمت ترک کر دے ۔

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

’’سوال: حقہ پینا، تمباکو کا کھانا یا سونگھنا کیسا ہے؟ حرام ہے یا مکروہ تحریمہ یا مکروہ تنزیہہ ہے؟ اور تمباکو فروش اور نیچے بند کے گھر کا کھانا کیسا ہے؟

جواب: حقہ پینا، تمباکو کھانا مکروہِ تنزیہی ہے اگر بو آوے، ورنہ کچھ حرج نہیں اور تمباکو فروش کا مال حلال ہے، ضیافت بھی اس کے گھر کھانا درست ہے‘‘۔

( کتاب جواز اور حرمت کے مسائل، ص: 552، ط: ادراہ صدائے دیوبند) 

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"مگر تمباکو نوشی سے منہ میں بدبو پیدا ہوتی ہے؛ لہذا صحیح ضرورت کے بغیر حقہ نوشی وغیرہ کراہیت سے خالی نہیں، تمباکو بنفسہ مباح ہے، اس میں کراہیت بدبو کی بنا پر عارضی ہے کراہت تحریمی ہو یا تنزیہی۔ بہر حال قابلِ ترک ہے، اس کی عادت نہ ہونی چاہیے۔ اس کی کثرت اسراف اور موجبِ گناہ ہے۔ جو لوگ ہر وقت کے عادی ہیں ان کا منہ ہمیشہ بدبو دار رہتا ہے جس سے آں حضرتﷺ کو بہت زیادہ نفرت تھی۔"

(فتاویٰ رحیمیہ ، ج 10, ص 213, دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144311100175
تاریخ اجراء :04-06-2022

فتوی پرنٹ