1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. لباس / وضع قطع
  4. پردے کے احکام

عورت کا پردے میں رہ کر یوٹیوب پر قرآن پڑھانا

سوال

میرے شوہر کی تنخواہ الحمدللہ اچھی ہے لیکن کرائے کا مکان ہے بچی کے خرچے  ہیں،تو پوری نہیں پڑتی اور میری چھوٹی بچی ہے میں باہر جاکر پڑھا نہیں سکتی اور شوہر کی اجازت بھی نہیں ہے لیکن مہینے  کے آخر میں 10، 15 ہزار کے قرض دار ہوجاتے ہے تو میں یوٹیوب کا چینل بنا کے (پردے میں)قرآن پڑھا لوں؟ میں نے جمعیت تجوید کا کورس کیا ہوا ہے؟

جواب

راجح قول کے مطابق   عورت کی آواز کا اگرچہ  پردہ نہیں  ہے، تاہم خلاف احتیاط تو بہرحال ہے ، اس میں فتنے کا بھی اندیشہ ہے ،اسی وجہ سے عورتوں کو اذان کہنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور دیگر تسبیحات وغیرہ پست آواز سے کہنے کا حکم ہے ،بوقتِ ضرورت نامحرم سے بات کرنے میں یہ حکم ہے کہ وہ نرم لہجے میں بات نہ کرے ، بلکہ کڑک آواز میں اپنی ضرورت کی بات کرے، تاکہ جن مردوں کے دل میں مرض ہے وہ کسی بھی قسم کی طمع نہ رکھ سکیں،  اور فتنہ کا سدباب ہوسکے،چونکہ یوٹیوب چینل پر اپلوڈ شدہ ویڈیو یا آڈیو کومرد وعورت سب ہی سن سکتے ہیں،لہذا یوٹیوب پر چینل بنانا کوئی ایسی ضرورت  نہیں ہے کہ جس کے لیے عورت کا اپنی آواز مرد تک پہنچانا ضروری ہو۔

نیز اگر یوٹیوب پر چینل بنانے کا مقصد آمدنی ہے تو  اس میں شرعًا بہت سے مفاسد ہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ :یوٹیوب پر چینل بناکر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے کی صورت میں اگر اس چینل کے فالوورز  زیادہ ہوں تو یوٹیوب چینل ہولڈر کی اجازت سے اس میں اپنے مختلف کسٹمر کے اشتہار چلاتا ہے، اور اس کی ایڈورٹائزمنٹ اور مارکیٹنگ کرنے پر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والے کو بھی پیسے دیتا ہے۔ اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر چینل پر ویڈیو اَپ لوڈ کرنے والا:

  1. جان د ار  کی تصویر والی ویڈیو اَپ لوڈ کرے، یا  اس ویڈیو  میں  جان دار کی تصویر ہو۔
  2. یا اس ویڈیو میں میوزک  اور موسیقی ہو۔
  3. یا اشتہار  غیر شرعی ہو۔
  4. یا  کسی بھی غیر شرعی شے کا اشتہار ہو۔
  5. یا اس کے لیے کوئی غیر شرعی معاہدہ کرنا پڑتا ہو۔

تو اس کے ذریعے پیسے کمانا جائز نہیں ہے۔

عام طور پر اگر  چینل بنانے والے کی اَپ لوڈ کردہ ویڈیو میں مذکورہ خرابیاں  نہ بھی ہوں تب بھی یوٹیوب کی طرف سے لگائے جانے والے  اشتہار میں یہ خرابیاں پائی جاتی ہیں، اور ہماری معلومات کے مطابق  یوٹیوب  پر چینل بناتے وقت ہی معاہدہ کیا جاتاہے کہ  مخصوص مدت میں چینل کے سبسکرائبرز اور  ویورز مخصوص تعداد تک پہنچیں گے تو یوٹیوب انتظامیہ اس چینل پر مختلف لوگوں کے اشتہارات چلانے کی مجاز ہوگی، اور چینل بنانے والا اس معاہدے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوتاہے، الا یہ کہ اشتہارات بند کرنے کے لیے وہ باقاعدہ فیس ادا کرے اور چینل کو کمرشل بنیاد پر استعمال نہ کرے، اور ان اشتہارات کا انتخاب کسی بھی یوزر کی سرچنگ بیس یا لوکیشن یا مختلف لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوسکتاہے، چینل  بناتے وقت چوں کہ اس معاہدے پر رضامندی پائی جاتی ہے، لہٰذا یوٹیوب پر چینل بنانا ہی درست نہیں ہے، اور چینل بناتے وقت یوٹیوب انتظامیہ کو جب ایڈ چلانے کی اجازت دی جائے تو اس کے بعد وہ  مختلف ڈیوائسز کی سرچنگ بیس یا لوکیشن یا ملکوں کے حساب سے مختلف ایڈ چلاتے ہیں، مثلاً اگر  پاکستان میں اسی ویڈیو پر وہ کوئی اشتہار چلاتے ہیں، مغربی ممالک میں اس پر وہ کسی اور قسم کا اشتہار چلاتے ہیں،  اور پاکستان میں ہی ایک شخص کی ڈیوائس پر الگ اشتہار چلتاہے تو دوسرے شخص کی ڈیوائس پر دوسری نوعیت کا اشتہار چل سکتاہے، جس  میں بسااوقات حرام اور  ناجائز چیزوں کی تشہیر بھی کرتے ہیں، ان تمام مفاسد کے پیشِ نظر یوٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ کرکے پیسے کمانے کی شرعًا اجازت نہیں ہے۔

بہتر یہ ہے کہ گھر میں رہ کر ہی بچیوں اور خواتین کو قرآن مجید سکھائیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال - عليه الصلاة والسلام - «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولا تلبي جهرا لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها، ولهذا منعها - عليه الصلاة والسلام - من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة.ــ"

(کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ،مطلب في ستر العورة،ج1،ص406،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144311101595
تاریخ اجراء :21-06-2022

فتوی پرنٹ