1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

كيا مرحوم والدین کی طرف سے قربانی کا ثواب انہیں ملے گا؟

سوال

 کیا قربانی کا ثواب مرحوم والدین کو بھی ملتا ہے اگر ان کے نام کی قربانی کی جائے اپنی قربانی کے ساتھ؟ قربانی زندہ بندوں کے ساتھ اگر مردہ والدین یا رشتے داروں کے نام پر کی جائے تو کیا ان کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا؟ یا پھر صرف زندہ لوگوں کو ہی ثواب ملے گا؟

جواب

اگر اپنی قربانی کے ساتھ مرحوم والدین کے نام بھی الگ الگ حصہ کی قربانی کی جائے تو مرحوم والدین کو پورا پورا ثواب ملے گا، زندہ بندوں  کی قربانی کے ساتھ اگر مرحوم والدین یا رشتے داروں کے نام الگ الگ حصے کی قربانی کی جائے تو سب کو برابر ثواب ملے گا، زندہ اور مردہ دونوں کو ثواب ملے گا، اور اگر اپنی قربانی کے علاوہ ایک اور حصہ قربانی کرکے والدین اور رشتہ داروں کو ثواب پہنچانا چاہے تو یہ بھی جائز ہے، باقی پہلی صورت زیادہ بہتر ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت :لکن سئل ابن حجر المکي عما لو قرأ لأهل المقبرة الفاتحة: هل یقسم الثواب بینهم أو یصل لکل منهم مثل ثواب ذلك کاملًا؟ فأجاب بأنه أفتی جمع بالثاني، وهو اللائق بسعة الفضل".

(باب صلاة الجنازة، مطلب في القراءة للمیت و إهداء ثوابها له :244/2 ط:سعید)

وفيه أيضا:

"و قد صح «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين: أحدهما عن نفسه والآخر عمن لم يذبح من أمته»، وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح."

(كتاب الأضحية:6/ 326، ط:سعيد)

وفيه أيضا:

"الأصل أن كل من أتى بعبادة ما،  له جعل ثوابها لغيره وإن نواها عند الفعل لنفسه؛ لظاهر الأدلة. وأما قوله تعالى :﴿ وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى﴾ [النجم: 39] أي إلا إذا وهبه له، كما حققه الكمال، أو اللام بمعنى على كما في : ﴿وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ﴾[غافر: 52]، ولقد أفصح الزاهدي عن اعتزاله هنا والله الموفق.

(قوله: بعبادة ما) أي سواء كانت صلاةً أو صوماً أو صدقةً أو قراءةً أو ذكراً أو طوافاً أو حجاً أو عمرةً، أو غير ذلك من زيارة قبور الأنبياء عليهم الصلاة والسلام، والشهداء والأولياء والصالحين، وتكفين الموتى، وجميع أنواع البر، كما في الهندية، ط۔ وقدمنا في الزكاة عن التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلاً أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات؛ لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيءاهـ."

 (كتاب الحج،باب الحج عن الغير،مطلب في إهداء ثواب الأعمال للغير:2/ 595، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144311101823
تاریخ اجراء :26-06-2022

فتوی پرنٹ