1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

6لاکھ کی مالیت کےکاروبارکی وجہ سے قربانی کاحکم

سوال

ایک آدمی نےایک سال پہلےقربانی کےسلسلےمیں 6لاکھ کاروبار میں لگائےہیں ،وہاں سے ڈیڑھ مہنیےہوئےہیں کہ منافع آرہاہے20ہزار تک تو کیااس صورت میں اس آدمی پر قربانی واجب ہے؟

جواب

واضح رہےکہ  قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے، یعنی جس عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان  مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو،  یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سےزائد اتنا سامان  موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر  ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے،لہٰٰذا صورت مسئولہ میں چوں کہ 6لاکھ کی مالیت کا کاروبار ہے تو اس شخص پرقربانی واجب ہے۔

الدر المختارمع الرد المحتار میں ہے:

"وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر)

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لويدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم."

(کتاب الاضحیه،ج:6،ص:312،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144312100200
تاریخ اجراء :05-07-2022

فتوی پرنٹ