1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

امیر مینائی کے ایک نعتیہ کلام سے متعلق شرعی حکم

سوال

درجِ ذیل میں حضرت امیر مینائی کی ایک نعت ہے، کیا اس کا پڑھنا شرعاً درست ہے ؟

تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسولﷺ ۔۔۔بر آئیں میرے دل کے بھِی ارمان یا رسولﷺ

کیوں دل سے میں فدا نہ کروں جان یا رسولﷺ۔۔۔ رہتے ہیں اس میں آپ کے ارمان یا رسولﷺ

کشتہ ہوں روئے پاک کا نکلوں جو قبر سے۔۔۔ جاری میری زباں پہ ہو قرآن یا رسولﷺ

دنیا سے اور کچھ نہیں مطلوب ہے مجھے۔۔۔ لے جاؤں اپنے ساتھ میں ایمان یا رسولﷺ

اس شوق میں کہ آپ کے دامن سے جا ملے۔۔۔  میں چاک کر رہا ہوں گریباں یا رسولﷺ

کافی ہے یہ وسیلہ شفاعت کے واسطے۔۔۔  عاصی تو مگر ہوں پشیمان یا رسولﷺ

مشکل کشا ہیں آپ امیر آپ کا غلام۔۔۔  اب اس کی مشکلیں بھی ہوں آسان یا رسولﷺ

جواب

مذکورہ نعتیہ کلام میں دو الفاظ قابلِ توجہ ہیں: 1- یا رسول اللہ ، 2- مشکل کشا، مذکورہ دونوں الفاظ کہنے کا حکم مندرجہ ذیل ہے:

 1:  یارسول اللہ کہنے کا حکم: 

لفظ "یا رسول اللّٰه"   لفظ   یاء (حرفِ نداء)  پر مشتمل ہے، اور لفظ  ’’یا‘‘ عربی زبان  میں کسی ایسے شخص کو پکارنے (آواز دینے)  کے  لیے استعمال ہوتا ہے جو اس مجلس میں حاضر ہو ، جب کہ  اہلِ  سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حاضر و ناظر ذات صرف باری تعالی کی ذاتِ اقدس ہے، اس کے علاوہ کائنات میں کوئی بھی ایسی ذات نہیں جو ہر جگہ موجود ہو اور سب کچھ دیکھ اور سن رہی ہو، یہاں تک کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم بھی حاضر و ناظر نہیں، اور  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے  میں حاضر و ناظر کا عقیدہ رکھنا بتصریحاتِ فقہاء کفر ہے، نیز اہلِ سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر اطہر میں حیات ہیں، اور جو شخص روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہوکر سلام پیش کرتا ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس اسے سنتے اور جواب دیتے ہیں، جس کی وجہ سے روضہ رسول پر کھڑے ہو کر ندا و صیغہ خطاب کے ذریعہ سلام پیش کرنا جائز ہے، البتہ روضہ مبارک کے علاوہ دنیا کے کسی اور مقام سے درود پڑھا جائے تو اللہ رب العزت کی جانب سے مامور فرشتے پڑھے جانے والے درود کو پڑھنے والے کے نام کے ساتھ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں

مذکورہ بالا تمہید کے بعد  جواب یہ ہے کہ " یا رسول اللّٰه"  کہنا مطلقاً ممنوع نہیں ہے، بلکہ اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، ان صورتوں کے اعتبار سے اس کا حکم بھی مختلف ہوگا:

1- غائبانہ اس عقیدے سے کہنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرح ہرجگہ حاضر وناظر ہیں، ہماری ہرپکار اور فریاد کو سننے والے ہیں، حاجت روا ہیں؛ ناجائز اور شرک ہے۔

(مستفاد از فتاوی رحیمیہ، ج:2، ص:108، کتاب السنة والبدعة، ط: دار الاشاعت، پاکستان)

2- روضہٴ اطہر کے سامنے کھڑے ہوکر  ’’لبیك یا رسول اللّٰه‘‘  کہنا جائز ہے، اس لیے کہ لفظ ”یا“ کے ذریعے اسی کو مخاطب کیا جاتا ہے، جو سامنے حاضر ہو،اور روضہ اطہر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف حیات ہیں، بلکہ سلام کا خواب بھی دیتے ہیں، لہٰذا سامنے موجود ہونے کی صورت میں خطاب درست ہے۔

3- صحیح عقیدہ ( کہ  میرا پیغام یا سلام فرشتے پہنچا دیں گے) کے ساتھ دور سے " یا رسول اللّٰه" کہنے کی اگرچہ اجازت ہے، اسی طرح فرط محبت میں شاعروں کے طرز پر محبوب سے خیالی کلام کے طور پر بھی " یا رسول اللّٰه" کہنا اگرچہ فی نفسہ جائز ہے، لیکن چوں کہ بہت سے عوام یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضور ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں اور  ہر جگہ سے ’’یا محمد‘‘  یا  " یا رسول اللّٰه"  کہنے والے کی آواز سن لیتے ہیں؛ اس لیے اس طرح کہنے سے لوگوں کو شبہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (اہلِ بدعت کی طرح) حاضر وناظر سمجھ کر اس طرح کہا جارہاہے، دل کا حال کسی کو معلوم نہیں، اس لیے روضۂ رسول ﷺ  کے علاوہ دیگر جگہوں میں ’’لبیك یا رسول اللّٰه‘‘ اور  اس جیسے جملے کہنے سے احتیاط کرنا چاہیے، اس لیے علمائے کرام غائبانہ اس لفظ  ’’یا‘‘ کے ذریعہ درود و سلام پڑھنے سے بھی منع کرتے ہیں ۔

2- مشکل کشا کہنے کا حکم: 

مشکل کشا کا مطلب اگر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشکل معاملات حل فرماتے تھے، تو کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم اگر اس طرح بولنے سے مراد یہ ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں غلو کرتے ہوئے یہ عقیدہ رکھا جائے کہ  آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر زمانے میں کسی بھی طرح پیش آنے والے مقدمات حل فرمائیں گے، اور پھر پریشانی اور مصیبت کے وقت بھی یا رسول اللہ کہے، اور جملہ امور میں کار ساز حقیقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو مانا جائےتو یہ عقیدہ واقعۃً اسلامی اقدار کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ شرک بھی ہے۔

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَة واستدل بعض الناس بهذه الآية على مشروعية الاستغاثة بالصالحين وجعلهم وسيلة بين الله تعالى وبين العباد والقسم على الله تعالى بهم بأن يقال: اللهم إنا نقسم عليك بفلان أن تعطينا كذا، ومنهم من يقول للغائب أو الميت من عباد الله تعالى الصالحين: يا فلان ادع الله تعالى ليرزقني كذا وكذا، ويزعمون أن ذلك من باب ابتغاء الوسيلة.

ويروون عن النبي صلّى الله عليه وسلّم أنه قال- إذا أعيتكم الأمور فعليكم بأهل القبور، أو فاستغيثوا بأهل القبور. وكل ذلك بعيد عن الحق بمراحل".

(سورۃ المائدۃ، رقم الآیۃ:35، ج:3، ص:294، ط:داراحیاء التراث العربی)

فتاوی عالمگیری (الفتاویٰ الہندیہ) میں ہے:

"(ومنها: ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لايليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكاً، أو ولداً، أو زوجةً، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص ويكفر بقوله: يجوز أن يفعل الله تعالى فعلاً لا حكمة فيه، ويكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر، كذا في البحر الرائق".

(مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام، ج:2، ص:258، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144308100483
تاریخ اجراء :12-03-2022

فتوی پرنٹ