1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

ہندو لڑکی سے نکاح کی صورت میں ثبوتِ نسب کا حکم

سوال

اگر مسلمان مرد کسی غیر مسلم ہندو وغیرہ عورت سے شادی کر لے تو پیدا ہونے والے بچے کو حلالی کہا جائے گایا حرامی؟

جواب

واضح رہے کہ ثبوتِ نسب کے لئے ضروری ہے کہ جس عورت سے نکاح کیا جا رہا ہے، اس سے نکاح کرنا صحیح ہو، نکاحِ باطل سے نسب ثابت نہیں ہوتا۔ لہذا کتابیہ (آسمانی مذہب کو ماننے والی) کے علاوہ کسی مشرک اور ہندو لڑکی سے نکاح جائز نہیں، یہ نکاح منعقد نہیں ہوتا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد بھی حلال اور ثابت النسب نہیں ہوگی۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:

"وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ." ﴿البقرة: ٢٢١﴾

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير عودة."

(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق، الباب الخامس عشر في ثبوت النسب،536/1، رشيدية)

الدر المختار میں ہے:

"وفي مجمع الفتاوى: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل.....  وفي الرد:قوله: لأنه نكاح باطل) أي فالوطء فيه زنا لا يثبت به النسب، بخلاف الفاسد فإنه وطء بشبهة فيثبت به النسب ولذا تكون بالفاسد فراشا لا بالباطل."

( الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الطلاق، ‌‌باب العدة، ‌‌فصل في ثبوت النسب، 555/3)

فقط والله اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144308100552
تاریخ اجراء :12-03-2022

فتوی پرنٹ