1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

صدقہ الفطر کا حکم

سوال

میں سعودیہ میں رہتا ہوں، فطرہ کتنا ہےِ ؟کیسے اور کس کو دینا ہے؟

جواب

 صدقہ فطر کی مقدار گندم کے حساب سے  پونے دو کلو گندم ہے چاہےکہیں بھی ادا کیا جائے، اور اگر قیمت ادا کرنی ہے تو جہاں آدمی  موجود ہے  وہاں کی قیمت  کا اعتبار ہے۔

لہذا  اگر آپ سعودیہ میں مقیم ہیں  تو   آپ پر اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر  سعودیہ عرب کے نرخ کے حساب سے دینا لازم ہوگا،  خواہ آپ یہ قیمت سعودیہ عرب میں ادا کریں یا آپ کی اجازت سے پاکستان میں ادا کی جائے۔

فطرہ کا مصرف بھی وہی ہے جو زکاۃ  کا مصرف ہے؛  لہذا جس کے بارے میں  غالب گمان ہو کہ وہ مستحقِ زکاۃ ہے تو اسے فطرہ کی رقم دی جا سکتی ہے۔مستحقِ زکات سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس اس کی بنیادی ضرورت  و استعمال ( یعنی رہنے کا مکان ، گھریلوبرتن ، کپڑے وغیرہ)سے زائد،  نصاب کے بقدر  (یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت  کے برابر) مال یا سامان موجود نہ ہو  اور وہ سید/ عباسی نہ ہو۔ اس کو زکاۃ دینا اور اس کے لیے ضرورت کے مطابق زکاۃ لینا جائز ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح، وأن رءوسهم تبع لرأسه.
(قوله: مكان المؤدي) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية، كما في الشرنبلالية، وهو المذهب كما في البحر؛ فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه".

(رد المحتار 2/ 355 ط: سعید )

 فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144309101238
تاریخ اجراء :22-04-2022

فتوی پرنٹ