1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

محلہ کی مسجد میں امام سمیت کسی نے بھی اعتکاف نہیں کیا

سوال

 اگر کوئی شخص بھی اعتکاف میں نہ بیٹھے تو سارے محلے والے گنہگار ہوں گے کیا ان کے ساتھ امام مسجد بھی گنہگار ہوگا یا نہیں؟

مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، پس اگر کسی مسجد میں کسی نے بھی اعتکاف نہیں کیا تو تمام اہل محلہ گناہ گار ہوں گے، اہل محلہ میں امام مسجد بھی داخل ہے، لہذا ایسی صورت میں امام مسجد کو چاہیئے کہ وہ خود اعتکاف کرلیں  یا دوسرے کو اعتکاف میں بیٹھنے کے لئے ترغیب دیں۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

" (وسنة مؤكدة في العشر الأخير من رمضان) أي سنة كفاية كما في البرهان وغيره لاقترانها بعدم الإنكار على من لم يفعله من الصحابة  (مستحب في غيره من الأزمنة) هو بمعنى غير المؤكدة.

(وشرط الصوم)  لصحة  (الأول)  اتفاقا (فقط) على المذهب.

(قوله أي سنة كفاية) نظيرها إقامة التراويح بالجماعة فإذا قام بها البعض سقط الطلب عن الباقين فلم يأثموا بالمواظبة على ترك بلا عذر، ولو كان سنة عين لأثموا بترك السنة المؤكدة إثما دون إثم ترك الواجب كما مر بيانه في كتاب الطهارة."

( كتاب الصوم، باب الاعتكاف، ٢ / ٤٤٢، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144309101285
تاریخ اجراء :22-04-2022

فتوی پرنٹ