1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

شیعہ لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس  مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مسلمان عورت کا پاکستانی   شیعہ کےساتھ نکاح جائز ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ مسلمان لڑکی کا نکاح  منعقد  ہونے کے لیے لڑکے کا مسلمان ہونا ضروری ہے؛ لہٰذا اگرکسی شیعہ کا عقیدہ یہ ہوکہ قرآنِ  کریم میں تحریف  (ردوبدل)  ہوئی ہے، یا ان کے جو بارہ امام ہیں،  ان کےبارے میں اس بات کا قائل ہوکہ ان کی امامت اللہ جل شانہ کی طرف سے ہے،اور امام گناہ سے معصوم ہیں، ان کو حلال وحرام کا اختیارہے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوئی ہے، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھتاہو  یا اس کے علاوہ کوئی کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو اس طرح کے عقائد رکھنے والا فرد  مسلمان نہیں ہے ، اور کسی سنی لڑکی کا اس سے نکاح جائزنہیں ہے۔

البتہ اگر  ایسا شیعہ لڑکااپنے باطل کفریہ  عقائد سے صدق دل سے توبہ کرکے مکمل براء ت کا اظہار کرے  اور اپنے عقیدہ کے مطابق تقیہ سے کام نہ لے اور صحیح اسلامی عقائد کا دل وجان سے اقرار کرلے تو اس کے بعد اس  سے نکاح کرنا  جائز ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي أو كان ينكر صحبة أبي بكر الصديق أو يقذف عائشة الصديقة فهو كافر؛ لمخالفة القواطع المعلومة من الدين بالضرورة".

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، 3/ 46 ط: سعيد)

فقط والله أعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144311100971
تاریخ اجراء :13-06-2022

فتوی پرنٹ