1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

شرکت کے معاملہ کو ختم کرنے کی صورت میں سرمایہ کا حکم

سوال

دو شخصوں نے آپس میں شراکت داری کا معاہدہ کیا ،دونوں ورکنگ پاٹنر تھے،ایک شخص کا سرمایہ  75 فیصد اور دوسرے کا 25 فیصد تھا ،اور نفع کی شرح بھی اسی تناسب سے ہوتی تھی ،یعنی 75 فیصد والے کا نفع 75 فیصد اور 25 فیصد سرمایہ والے کا نفع بھی 25 فیصد ،اب دونوں نے شراکت داری کو ختم کرنے کا اردہ کیا ،حساب کے بعد معلوم ہواکہ جس شریک کا  سرمایہ 75 فیصد تھا ،اس  نے 15 فیصد سرمایہ نکال لیا ،جس کی وجہ سے اس کا سرمایہ  کم ہوکر 60 فیصد رہ گیا ہے ،اور 25  فیصد سرمایہ والے کا زیادہ ہوکر40 فیصد ہوگیا ہے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ شرعاً ان دونوں شریکوں کا شراکت داری کو ختم کرکے مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق سرمایہ واپس لینا درست ہے؟یعنی  معاملہ ختم کرتے ہوئےسرمایہ 60 فیصد اور 40 فیصد کے حساب سے لیا جائے۔

2)   کیا نفع میں بھی  وہی تناسب رکھا جائے گا، کہ جس کا نفع 75 فیصد تھا وہ اتنا ہی لے اور جس کا 25 فیصد تھا وہ 25 فیصد ہی لے؟ 

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  شراکت کے معاہدہ میں جو سرمایہ  جس شخص کا لیا گیا وہ معاہدہ کے ختم کرنے کے وقت  اسی حساب سے واپس لے گا،لہذا جب 75 فیصد سرمایہ والے نے اپنے سرمایہ میں سے 15 فیصد نکال لیا ،اورکل کے اعتبار سے  75 فیصد والے کا سرمایہ 60 فیصد  ،اور 25 فیصد والے کا 40 فیصد ہوگیا، اور اب  دونوں فریق اس معاہدہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو سرمایہ بھی اسی حساب سے واپس ہوگا،60 فیصد والے کو 60 فیصد اور دوسرے شریک کو 40 فیصد  ملے گا۔

2) نفع کی جو شرح   دونوں شریکوں کے درمیان باہمی رضامندی سے طے ہوجائے وہی  شرح  دونوں فریقوں کو ملے گی ،اگرچہ ایک شریک کا سرمایہ زیادہ  اور دوسرے کا کم ہو۔

فتح القدیر میں ہے:

"الربح على ما شرطا، والوضيعة على قدر المالين."

(کتاب الشرکۃ ،177/6،ط:مکتبہ مصطفیٰ البابی مصر)

البحرالرائق میں ہے :

"(قوله: وتصح مع التساوي في المال دون الربح وعكسه وهو التفاضل في المال والتساوي في الربح  وقال زفر والشافعي: لايجوز؛ لأن التفاضل فيه يؤدي إلى ربح ما لم يضمن فإن المال إذا كان نصفين والربح أثلاثاً فصاحب الزيادة يستحقها بلا ضمان؛ إذ الضمان بقدر رأس المال؛ لأن الشركة عندهما في الربح كالشركة في الأصل، ولهذا يشترطان الخلط فصار ربح المال بمنزلة نماء الأعيان؛ فيستحق بقدر الملك في الأصل.

ولنا قوله عليه السلام: الربح على ما شرطا، والوضيعة على قدر المالين. ولم يفصل؛ ولأن الربح كما يستحق بالمال يستحق بالعمل كما في المضاربة، وقد يكون أحدهما أحذق وأهدى أو أكثر عملاً فلايرضى بالمساواة؛ فمست الحاجة إلى التفاضل. قيد بالشركة في الربح؛ لأن اشتراط الربح كله لأحدهما غير صحيح؛ لأنه يخرج العقد به من الشركة، ومن المضاربة أيضاً إلى قرض باشتراطه للعامل، أو إلى بضاعة باشتراطه لرب المال، وهذا العقد يشبه المضاربة من حيث أنه يعمل في مال الشريك ويشبه الشركة اسماً وعملاً فإنهما يعملان معاً، فعملنا بشبه المضاربة وقلنا: يصح اشتراط الربح من غير ضمان وبشبه الشركة حتى لاتبطل باشتراط العمل عليهما. وقد أطلق المصنف تبعاً للهداية جواز التفاضل في الربح مع التساوي في المال، وقيده في التبيين وفتح القدير بأن يشترطا الأكثر للعامل منهما أو لأكثرهما عملاً".

(کتاب الشرکۃ،5/188،ط:دارالکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144311101926
تاریخ اجراء :27-06-2022

فتوی پرنٹ