پھوپھی زاد (بھائی یا بہن) کی بیٹی سے نکاح

سوال کا متن:

پھوپھی زاد بھائی اور بہن کی بیٹی سے شرعاً نکاح جائز ہے یا نہیں؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں.

جواب کا متن:

واضح رہے کہ کسی مرد کیلئے اس کے پھوپھی زاد بھائی کی بیٹی یا پھوپھی زاد بہن کی بیٹی چونکہ محارم میں سے نہیں ہے، لہٰذا اس سے نکاح کرنا جائز ہے (بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ مثلاً رضاعت وغیرہ بھی موجود نہ ہو)۔

قرآن مجید میں ہے:

"{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا}."[ النساء:۲۳]

قرآن مجید میں ہے:

"{وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ}." [النساء:24]

البحر الرائق  میں ہے:

"(قوله: وحرم به، وإن قل في ثلاثين شهرا ما حرم منه بالنسب) أي حرم بسبب الرضاع ما حرم بسبب النسب قرابة وصهرية في هذه المدة ولو كان الرضاع قليلا لحديث الصحيحين المشهور: يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب."

(کتاب الرضاع ،(238/3) ،ط :دارالکتاب الاسلامی )

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144402101711
تاریخ اجراء :22-09-2022