1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن

بیوی کا اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنے کا حکم

سوال

 اگر بیوی شوہر سے زبردستی طلاق لیناچاہے، تو شوہر کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ عورت کا  شدید مجبوری کے بغیر شوہر سے طلاق  کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، حدیثِ مبارک میں آتا ہے کہ ’’جو عورت  بغیر کسی مجبوری کے  اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرےاس پر جنت کی خوش بو حرام ہے۔‘‘

پھر یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ازدواجی زندگی کے  پرسکون اور خوش گوار  ہونے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں،  نبی کریم ﷺ نے شوہرکو اپنی اہلیہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے:’’ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنی گھر والی کے ساتھ تم میں سے سب سے بہتر ہوں۔‘‘

دوسری جانب بیوی کو بھی اپنے شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری کا حکم دیا ، ارشاد نبوی ہے:  ’’بالفرض اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے‘‘۔ بلا کسی ضرورت کے بیوی کا اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں، نبی کریم ﷺ  نے شرعی وجہ کے بغیر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت کو منافق قرار دیا ہے۔

تاہم اس صورت میں شوہر کے ذمہ یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کے طلاق کے مطالبہ کی اصل وجہ معلوم کریں، یعنی جس بات کی وجہ سے طلاق کی نوبت پیش آرہی ہے، اس کو معلوم کرکے حل کرنےکی کوشش کریں، اگر شوہر کے لیے مسئلے کا حل ممکن نہیں تو خاندان کے بڑوں کو بھی مسئلہ سے آگاہ کیا جا سکتا ہے، ممکن ہے کہ وہ اس کی کوئی بہتر صورت نکال سکیں۔

اگر   تمام کوششوں  کے باوجود بیوی اپنے مطالبہ سے باز نہ آئے اور نباہ کی صورت بھی  نظر نہ آتی ہو تو ایسی صورت میں شوہر  کے لیے طلاق  دینے کی  گنجائش ہو گی۔

قرآن مجید میں اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے :

"وَاللَّاتِىْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِى الْمَضَاجِــعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ  فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْـهِنَّ سَبِيْلًا  اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْـرًا"

[النساء: 34]

ترجمہ:’’ اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم کو ان کی بد دماغی کا احتمال ہو تو ان کو زبانی نصیحت کرو، اور ان کو ان کے لیٹنے کی جگہ میں تنہا چھوڑ دو، اور ان کو مارو، پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنا شروع کردیں تو ان پر بہانا مت ڈھونڈو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے رفعت اور عظمت والے ہیں۔‘‘

(از:بیان القرآن)

سنن أبی داؤد میں ہے:

"عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’أبغض ‌الحلال إلى الله تعالى الطلاق‘‘."

(باب في كراهية الطلاق،  رقم:2178، ج:2، ص:255، ط:المكتبة العصرية)

وفيه أیضاً:

"عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’أيما ‌امرأة ‌سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة‘‘."

(باب في الخلع،  رقم:2226، ج:2، ص:268، ط:المكتبة العصرية)

مشکوۃ شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’المنتزعات والمختلعات هن المنافقات‘‘ . رواه النسائي".

 (كتاب النكاح، باب الخلع و الطلاق، الفصل الثالث، رقم:3290، ج:2، ص:980، ط: المكتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

''وأما الطلاق، فإن الأصل فيه الحظر بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه ، وهو معنى قولهم: الأصل فيه الحظر ، والإباحة للحاجة إلى الخلاص ، فإذا كان بلا سبب أصلاً لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص، بل يكون حمقاً وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها ، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى ، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة ، كما قيل ، بل هي أعم كما اختاره في الفتح فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعاً يبقى على أصله من الحظر ، ولهذا قال تعالى : ﴿فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلاً﴾ (النساء : 34) أي لا تطلبوا الفراق ، وعليه حديث: ’’ أبغض الحلال إلى الله عز وجل الطلاق‘‘. قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات، أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اھ .''

(کتاب الطلاق، ج:3، ص:228، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144402101473
تاریخ اجراء :19-09-2022

فتوی پرنٹ