آنتوں کی بیع استجرار میں ایڈوانس ادائیگی کی صورت میں کم قیمت دینا

سوال کا متن:

ہم بھیڑ بکریوں کی آنتیں قصائیوں سے ٹھیکہ کرتے ہیں،  سال/ چھ ماں کا نرخ طے کرتے ہیں ، کبھی اس کا نرخ بڑھ جاتا کبھی کم ہو جاتا ہے، لیکن چوں کہ ہم نے باہم قرارداد کی ہوتی ہے؛  اس  لیے دونوں فریق مقررہ وقت تک پابند رہتے ہیں، ہم ماہانہ رقم ادا کرتے رہتے ہیں، اب اکثر قصائی پیشگی رقم کا مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ضرورت ہے  ہمیں رقم پہلے دے دو، پھر ہمارے جو بنے اس سے کاٹتے رہو چوں کہ وہ بہت بھاری رقم کا مطالبہ کرتے ہیں تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ اگر ہر مہینہ رقم لو تو مثلاً 100 روپے نرخ اور اگر ایڈوانس رقم لو تو 90 روپے نرخ ہو گا؟ رہنمائی فرمائیں!

جواب کا متن:

صورتِ مسئولہ  میں اگر  سائل آنتیں فروخت کرنے والے قصائی سے ابتدا  میں یہ طے کر لے کہ قیمت 100 روپے ہو گی یا 90 روپےیعنی  دونوں فریق کا کسی ایک قیمت  پراتفاق ہو جائے  تو اس معاملہ میں شرعًا کوئی قباحت نہیں ہے۔

الدر المختار میں ہے:  

"فروع: ما يستجره الإنسان من البياع إذا حاسبه على أثمانها بعد استهلاكها جاز استحسانًا".

وفي الحاشية لابن عابدين:

"(قوله: ما يستجره الإنسان إلخ) ذكر في البحر أن من شرائط المعقود عليه أن يكون موجودًا، فلم ينعقد بيع المعدوم ثم قال: و مما تسامحوا فيه، وأخرجوه عن هذه القاعدة ما في القنية الأشياء التي تؤخذ من البياع على وجه الخرج كما هو العادة من غير بيع كالعدس و الملح والزيت و نحوها ثم اشتراها بعدما انعدمت صح. اهـ. فيجوز بيع المعدوم هنا. اهـ ... في الولوالجية: دفع دراهم إلى خباز فقال: اشتريت منك مائة من من خبز، وجعل يأخذ كل يوم خمسة أمناء فالبيع فاسد و ما أكل فهو مكروه؛ لأنه اشترى خبزًا غير مشار إليه، فكان المبيع مجهولًا و لو أعطاه الدراهم، و جعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان و لم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز و هذا حلال و إن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لاينعقد البيع، و إنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحًا. اهـ.

قلت: و وجهه أن ثمن الخبز معلوم فإذا انعقد بيعًا بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فكذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولى".

(كتاب البيوع، 4/ 516، ط: سعید)

فقط والله أعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100236
تاریخ اجراء :07-02-2022