قاتل کا میراث میں حصہ نہیں ہے

سوال کا متن:

ہم  دو بھائی اور چار بہنیں ہیں ہمارے والدین فوت ہو چکے ہیں ان کی جائیداد کی وراثت میں ایک مسئلہ  یہ ہے  کہ میری ایک بہن کو اس کے شوہر نے قتل کر دیا ان کی اولاد میں دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے اور ان بچوں کو ہم لوگوں نے پالا ہے جب کہ قاتل کو سزا ہو چکی ہے جوکہ عمر قید ہے اب ہم لوگ بچوں کو وراثت سے حصہ دے رہے ہیں اب مسئلہ یہ ہے کہ قاتل کو وراثت میں حصہ نہیں دینا چاہتے جب کہ ہمارے نمبردار صاحب ہمارے شجرہ کی تصدیق نہیں کرتے،  اس صورت ہم پر کیا واجب ہے اور ہم لوگ کیا کریں ؟

جواب کا متن:

صورتِ  مسئولہ میں آپ کے والدین کی وراثت ان کے شرعی ورثاء میں ہی تقسیم ہوگی اور اگر آپ کی بہن کو والدین کے انتقال کے بعد  ہی قتل کیا گیا تھا تو ان کی اولاد کا بھی آپ کے والدین کے  ترکہ میں سےجو بہن کا  ترکہ  ہے اس میں حصہ  ہوگا اور اس کے شوہر کا اس کی وراثت میں شرعًا کوئی حصہ نہیں ہے ؛ کیوں کہ قتل کرنے  والا اپنے مورث کی وراثت سے محروم ہوجاتا ہے۔

البتہ   صورتِ مسئولہ میں مرحوم والدین  کا ترکہ شریعت کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا  کہ سب سے پہلے  مرحومین  کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد، اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو توباقی ترکہ کے ایک تہائی  حصہ  میں سے اسے نافذ  کرنے کے بعد،  جو ترکہ  باقی رہ جائے، اس  کے کل چالیس  حصے کر کے ہر ایک بیٹے  کو10/10  حصے اور ہر ایک بیٹی  کو5/5 حصے ، مرحومہ بیٹی کے ہر ایک بیٹے کو 2/2 اور مرحومہ بیٹی کی بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔ 

میت (والدین): 8 /40

میت (بیٹی): 5 مف1

یعنی فیصد کے حساب سے مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو 25  اور ہر ایک بیٹی کو 12/5 مرحومہ بیٹی کے ہر ایک بیٹے کو 5 اور بیٹی کو 2/5 ملے گا۔  

وفي الفتاوى الهندية :

"القاتل بغير حق لا يرث من المقتول شيئا عندنا سواء قتله عمدا أو خطأ، وكذلك كل قاتل وهو في معنى الخاطئ كالنائم إذا انقلب على مورثه، وكذلك إن سقط من سطح  على مورثه فقتله أو أوطأ بدابته مورثه وهو راكبها، كذا في المبسوط."

(6/ 454ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307101252
تاریخ اجراء :17-02-2022