میرا اور تیرا تعلق ختم کہنے کا حکم اور کلمہ طیبہ الفاظِ یمین میں سے نہیں

سوال کا متن:

میری بیٹی کی اپنے شوہر کے ساتھ لڑائی ہوتی رہتی ہے۔ ایک دفعہ لڑائی کے موقع پر اس کے شوہر نے اسے کہا "اگر تم نے بینک کے پاسورڈ کے بارے میں نہیں بتایا تو میرا اور تیرا تعلق ختم ہے"، اس کے بعد سے اب تک میری بیٹی نے اپنے شوہر کو بینک کا پاسورڈ نہیں بتایا، پھر اس کے بعد بھی ایک لڑائی کے موقع پر چار دفعہ یہ جملہ کہا "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، اگر تم نے اپنی والدہ کے ساتھ اس گھر سے باہر قدم رکھا تو تم اس گھر میں دوبارہ نہیں آؤگی"، جبکہ اس لڑائی کے بعد میں اپنی بیٹی کو لے کر اپنے گھر آگئی ہوں، پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟

جواب کا متن:

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی بیٹی کے شوہر کا اپنی بیوی سے لڑائی کرنے کے دوران ایک دفعہ یہ جملہ (اگر تم نے بینک کے پاسورڈ کے بارے میں نہیں بتایا تو میرا اور تیرا تعلق ختم ہے) ادا کرنا الفاظِ کنایہ میں سے ہے اور شرط پر معلق ہے، لہٰذا اگر الفاظ ادا کرنے والے کی نیت طلاق کی تھی اور سائلہ کی بیٹی اپنے شوہر کو مرتے دم تک بینک کا پاسوڈ نہیں بتاتی تو میاں بیوی میں سے کسی ایک کی موت سے قبل شرط پائے جانے کی وجہ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی اور اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

باقی سائلہ کی بیٹی کو اس کے شوہر کا لڑائی کے دوران ایک دوسرا جملہ (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، اگر تم نے اپنی والدہ کے ساتھ اس گھر سے باہر قدم رکھا تو تم اس گھر میں دوبارہ نہیں آؤگی) ادا کرنا الفاظِ طلاق میں سے نہیں ہے اور نہ کلمہ طیبہ الفاظِ یمین میں سے ہے، لہٰذا اس جملے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور قسم نہ ہونے کی وجہ سے کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم، كقوله: اعتدي واختاري وأمرك بيدك، فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام أربعة أخرى ذكرها السرخسي في المبسوط وقاضي خان في الجامع الصغير وآخرون، وهي: لا سبيل لي عليك لا ملك لي عليك خليت سبيلك فارقتك، ولا رواية في خرجت من ملكي، قالوا: هو بمنزلة خليت سبيلك، وفي الينابيع: ألحق أبو يوسف - رحمه الله تعالى - بالخمسة ستة أخرى، وهي الأربعة المتقدمة، وزاد: خالعتك والحقي بأهلك، هكذا في غاية السروجي. وفي قوله: حبلك على غاربك لا يقع الطلاق إلا بالنية كذا في فتاوى قاضي خان."

(ج:1، ص:375، كتاب الطلاق، الباب الثاني، الفصل الخامس، ط:رشيدية)

وایضاً:

"ولو قال: شهد الله أنه لا إله إلا هو، لا يكون يمينا كذا في الخلاصة."

(ج:2، ص:54، کتاب الأيمان، الباب الثاني، الفصل الأول، ط:رشيدية)

فقط والله أعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100408
تاریخ اجراء :08-02-2022