amazon affiliate marketing میں کام کرنے کا حکم

سوال کا متن:

amazon affiliate marketing کا کام کرنا کیسا ہے؟بنیادی طور پر یہ ایک دلالی کی طرح ہوتا ہےکہ:سب سے پہلے فیس بک پر پیج بنانا پڑتا ہے،پھر  amazon  کی ویب سائٹ سے جس چیز کا آپ نے کام کرنا ہےاس کا لنک اٹھا کر اپنے پیج پر ڈال دیں، پھر اس لنک سے جو بھی کچھ خریدے گا  اس چیز کی قیمت کا دس فیصد ملے گا،تو کیا یہ نفع لینا جائز ہو گا یا نہیں ؟

جواب کا متن:

Amazon ویب سائٹ پر فروخت ہونے والی جائز  اشیاء کی قیمتوں میں سے مخصوص تناسب کے عوض  تشہیری اور ترویجی مہم میں حصہ لینا جائز ہےاور اس  پر فیصد کے اعتبار سے کمیشن مقرر کرکے  کمیشن لینے میں کوئی مضائقہ نہیں،  شرعا یہ  کام دلالی کے حکم میں ہے، جس کی اجرت لینا جائز ہے۔

البتہ  یہ ضروری ہے کہ اس تشہیری مہم میں جاندار کی تصویر اور موسیقی وغیرہ استعمال نہ کی جائے،نیز جس چیز کی خرید و فروخت کی جا رہی ہے اس میں شرعًا کوئی ایسا مانع نہ ہو جس کی وجہ سے اصلاً بیع ہی ناجائز ہوجائے جیسے مبیع کاحرام ہونا،لہذا صرف ان ہی مصنوعات کی تشہیر کی جائے جو اسلامی نقطۂ نظر سے حلال ہوں، جوچیزیں  شرعاًحرام ہیں ان کی تشہیر کرکے پیسہ کمانا جائز نہیں ہے۔اسی طرح جس کمپنی کی مصنوعات  کی  تشہیر کرنا ہو اس  کمپنی کی طرف سےمصنوعات کے حقیقی  اوصاف، قیمت  وغیرہ  واضح طور پر درج ہو۔ سامان نہ ملنے یا غبن ہوجانے کی صورت میں مصنوعات خریدنے کے لئےجمع کی گئی رقم کی  واپسی کی ضمانت دی گئی ہو۔

مزید یہ کہ آرڈر کرنے کے بعد مقررہ تاریخ تک مصنوعات نہ ملنے پر یا زیادہ تاخیر ہونے کی صورت میں کسٹمر کو  آرڈر کینسل کرنے کا بھی اختیار ہو۔ نیز آن لائن تجارت کرنے والےایسے ادارے اور  افراد  بھی ہیں جن کے یہاں مصنوعات موجود نہیں ہوتیں، محض اشتہار ات ہوتے ہیں اس لیے اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اس کمپنی کے پاس مصنوعات کا حقیقی وجود بھی  ہو۔

الدرالمختار  میں ہے:

"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية"۔

وفی الرد  تحتہ:

"(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين".      

( کتاب البیوع،ج:4،ص: 560 ،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100405
تاریخ اجراء :08-02-2022