ترکہ کے پلاٹ پر قبضہ کرنا جائز نہیں / بہو کے زیورات پر قبضہ کرنا سسر کے لیے جائز نہیں

سوال کا متن:

1۔ ہماری والدہ کا انتقال ہوا ہے ، ان کے ترکہ میں ایک پلاٹ تھا ، ان کے ورثاء میں شوہر ،  4 بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔ مرحومہ ( والدہ ) کے والدین کا ان کی زندگی میں ہی انتقال ہوگیا تھا ۔

اب مذکورہ پلاٹ بڑے بھائی کے نام والد صاحب اور بڑے بھائی نے کردیا ہے اور وہ ہی اس پر قابض ہیں ۔ میرے نام کے جعلی پاور آف اٹارنی بنواکر میرے جعلی دستخط کرادیئے ہیں ۔ 

سوال یہ ہے کہ اس میں میرا حصہ ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو کتنا ہے ؟ 

2۔ نیز میری بیوی کے زیورات میرے والد صاحب کے پاس ہیں اور وہ نہیں دے رہے کیا ان کے لیے ایسا کرنا شرعًا جائز ہے یا نہیں ؟ اور کیا ہمیں مطالبہ کا حق ہے ؟

جواب کا متن:

واضح رہے کہ مرحومہ کی وفات کے وقت  جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ان کی ملکیت میں تھی، ان کی وفات کے بعد وہ سب کا سب مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہوگا، اور اسے مرحومہ کے تمام شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم کرنا شرعًا  ضروری ہوگا، کسی ایک یا چند  وارثین کے  لیے اس پر قبضہ کرنا جائز نہ ہوگا، نیز مرحومہ کے ترکہ میں شامل  پلاٹ کسی ایک وارث کے نام منتقل کردینے سے اس تمام پلاٹ پر اس کی ملکیت شرعا ثابت نہ ہوگی، بلکہ اس کے نام پر منتقل ہوجانے کے بعد بھی پلاٹ حصص شرعیہ کے تناسب سے تمام ورثاء میں تقسیم کرنا واجب ہوگا، لہذا  صورتِ  مسئولہ میں  مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحوم پر قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ ترکہ کے ایک تہائی میں نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ کو 12 حصوں میں  تقسیم کرکے، 3 حصے مرحومہ کے شوہر کو، 2   حصے  ہر ایک بیٹے کو، اور  3 ایک  حصے مرحومہ کی اکلوتی بیٹی کو ملیں گے۔

صورتِ  تقسیم یہ ہے:

میت : 4 /12

یعنی 100 روپے میں سے 25 روپے مرحومہ کے شوہر کو، 16.66  روپے ہر ایک بیٹے کو، اور 8.33  روپے  مرحومہ کی اکلوتی بیٹی کو ملیں گے۔

صحیح مسلم میں ہے:

" عن ‌سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: « من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين »."

( كتاب البيوع، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها، رقم الحديث: ١٦١٠، ط: دار الطباعة العامرة - تركيا)

ترجمہ:" حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک بالشت برابر زمین ظلم سے لے لے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو سات زمینوں کا طوق پہنا دے گا"۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

" الوقت الذي يجري فيه الإرث... وقال مشايخ بلخ الإرث يثبت بعد موت المورث... ما يستحق به الإرث وما يحرم به : وأما ما يستحق به الإرث وما يحرم به فنقول ما يستحق به الإرث شيئان النسب والسبب فالنسب على ثلاثة أنواع المنتسبون إليه وهم الأولاد والمنتسب هو إليهم وهم الآباء والأمهات والسبب وهم الأخوات والأعمام والعمات وغير ذلك والسبب ضربان زوجية وولاء والولاء نوعان ولاء عتاقة وولاء الموالاة وفي النوعين من الولاء يرث الأعلى من الأسفل ولا يرث الأسفل من الأعلى هذا بيان جملة ما يستحق به الإرث."

( كتاب الفرائض، ٨ / ٥٥٧، ط: دار الكتاب الإسلامي)

2۔ صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ زیورات سائل کی اہلیہ کے  ہیں  تو  سائل کی اہلیہ کے زیورات پر اسی  کا حق ہے، سائل کے والد کا اس پر قبضہ کر لینا، اور اسے واپس نہ دینا  بنص قرآن و حدیث  حرام ہے،  لہذا سائل کے والد پر شرعا لازم ہے کہ وہ اپنی مذکورہ بہو کے تمام زیورات  اسے واپس کردیں ، اور زیورات کی واپسی تک سائل  کی اہلیہ کو  اس کے مطالبہ کا شرعًا و قانونًا حق حاصل ہے۔

شرح مشكل الآثار للطحاوي میں ہے:

" ٢٨٢٣ - وكما حدثنا الربيع بن سليمان بن داود قال: حدثنا أصبغ بن الفرج قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل قال: حدثنا عبد الملك بن الحسن، عن عبد الرحمن بن أبي سعيد، عن عمارة بن حارثة، عن عمرو بن يثربي قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم , فقال: "لايحل لامرئ من مال أخيه شيء إلا بطيب نفس منه" قال: قلت يا رسول الله،  إن لقيت غنم ابن عمي آخذ منها شيئًا؟ فقال: "إن لقيتها تحمل شفرةً، و أزنادا بخبت الجميش فلاتهجها."

قال أبو جعفر: ففيما روينا إثبات تحريم مال المسلم على المسلم."

( باب بيان مشكل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الضيافة من إيجابه إياها ومما سوى ذلك،٧ / ٢٥٢ ، ط: مؤسسة الرسالة )

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

" [ (المادة ٩٧) لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي]

(المادة ٩٧) :

لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده» فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا؛ لأن اللعب في السرقة جد فعلى ذلك يجب أن ترد اللقطة التي تؤخذ بقصد امتلاكها أو المال الذي يؤخذ رشوة أو سرقة أو غصبا لصاحبها عينا إذا كانت موجودة وبدلا فيما إذا استهلكت."

( المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ١ / ٩٨، ط: دار الجيل)

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100360
تاریخ اجراء :08-02-2022