حرمتِ مصاہرت میں مذہبِ غیر پر فتوی نہ دینے کی وجہ

سوال کا متن:

میں نے ایک عورت سے نکاح کیا،  ہم دونوں محبت سے زندگی  بسر کررہے تھے ، مگر کچھ مہینوں بعد والد صاحب نے دعوی کیا کہ تو جس عورت سے نکاح کیا ہے ، میں نے اس سے بوس و کنار کیا ہے ، پھر جب میں نے بیوی سے پوچھا تو اس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ، اب مفتی صاحب احناف کے قول کے حساب سے تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجائے گی، مگر صورتِ حال کچھ ایسی ہے کہ یہ عورت بیوہ تھی اور اس کا پہلا  شوہر شرابی تھا، میں نے اس سے نکاح کیا اور دین کی تعلیمات کی، اب ڈر یہ  ہے کہ اگر میں اس کو طلاق دوں گا تو یہ  معاش کے مسائل کی بناء پر کسی غلط کاری میں مبتلا نہ ہوجائے ، یا کسی غیر مسلم سے شادی نہ کرلے،  جیسے اس کی دو بہنوں نے غیر مسلم سے نکاح کیا ہے، میری درخواست ہے کہ ایسے حالات میں شافعی مسلک پر فتوی دیا جائے۔

جواب کا متن:

  صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے جب سائل کی بیوی سے بوس و کنار کیااور سائل  کا والد اور سائل خود اس بات کی تصدیق کرتا ہے، تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی سائل پر حرام ہوگئی ہے، اب دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں ہے، لہذا سائل پر لازم ہے کہ اپنی بیوی کو  علیحدہ کردے اور طلاق دےدے ،اگر سائل کو یہ اندیشہ ہے کہ طلاق کے بعد وہ غلط راہ پر چلے گی یا کسی غیر مسلم سے شادی کرے گی تو  عدت (تین ماہواریاں اور حمل کی صورت میں بچہ کی ولادت) کے بعد کسی دین دار شخص سے اس کا نکاح کرادے۔     

البتہ حرمتِ مصاہرت سے بچنے کے لیے  مذہب ِغیر پر فتوی دینے  کی گنجائش نہیں، کیوں  انفرادی مسئلہ کی بنیاد پر مذہبِ غیر پر فتوی نہیں دیا جاتا  ۔

         حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم  لاجپوری رحمہ اللہ  اسی طرح کے ایک مسئلہ کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :

”(سوال  ۲۴۷): ایک شخص نے اپنی ساس سے زنا کرلیا ، اس شخص کو اپنے فعل پر ازحد ندامت ہے، لیکن حرمتِ مصاہرت کا مسئلہ ا س کے لیے باعثِ تشویش بنا ہوا ہے کہ اب وہ کیا کرے ؟ ازروئے شرع اس کی بیوی اس پرحرام ہوچکی، اگر وہ اس صورت میں  اپنے فعل کو بیوی سے چھپائے ہوئے طلاق دے کر جدا کرتا ہے تو طلاق دینے کی وجہ سے سسرال والوں  کی طرف سے جان کا خطرہ ہے، سسرال والے دولت وقوت میں  فائق ہونے کے ساتھ ساتھ غنڈے بھی ہیں، اس علاقہ کے تمام لوگ یہ بات جانتے ہیں  اور ان لوگوں  سے خائف رہتے ہیں، نیز اگر وہ شخص اپنے اس برے فعل کااظہار کرتا ہے تو اس صورت میں  بھی جان کا خطرہ ہے تو مذکورہ صورت میں  اختلاف امتی رحمۃ کے پیش نظر امام شافعی ؒ کے مسلک پر (کہ زنا سے حرمتِ مصاحرت ثابت نہیں  ہوتی) عمل کرے تو جائز ہوگایا نہیں؟  بینواتوجروا۔

 (الجواب):فتح القدیر میں  ایک حدیث ہے: "قال رجل: یارسول الله إني زینت بامرأة في الجاهلیة، أفأنکح ابنتها؟ قال : لا أری ذلك، و لایصلح أن تنکح امرأة تطلع من ابنتها علی ماتطلع علیه منها". الخ (فتح القدیر، فصل في بیان المحرمات تحت قوله: لأنها نعمة ج:3،ص:221) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی عورت سے زنا کرے تو اس کی بیٹی اس پرحرام ہے، ہدایہ اولین میں ہے : "ومن زنی با مرأة حرمت علیه أمها وبنتها".   ( ہدایہ اولین، ص ۲۸۹)فتاویٰ تاتارخانیہ میں  ہے: "حرمة الصهر تثبت بالعقد الجائز وبالوطئ حلالاً کان أو حراماً أو عن شبهة أو زناً".( الفصل السابع في أسباب التحریم، ج:۲، ص:618 )

صورتِ مسئولہ میں  ساس سے زنا کیا ہے تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگئی اور بیوی اس پر حرام ہوگئی، اب شوہر بیوی کو طلاق دے کر علیٰحدہ کر دے ،مذکورہ صورت میں  امام ابو حنیفہ ؒ کا مسلک چھوڑ کر امام شافعی ؒ کا مسلک اختیار کرنے کی اجازت نہیں  دی جاسکتی، جہاں  مسلمانوں  کی کوئی شدید اجتماعی ضرورت داعی ہو (بالفاظِ دیگر عمومِ بلویٰ ہو ) تو ایسے موقع پر کسی خاص مسئلہ میں  کسی دوسرے امام کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہوسکتی ہے بشرط یہ کہ متبحر علماء اس کا فیصلہ کریں، انفرادی رائے کا کوئی اعتبار نہیں،انفرادی ضرورت کی وجہ سے مذہبِ غیر کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں  دی جاسکتی اور خاص کر عورت کی خاطر مذہبِ حق کو چھوڑنا  بڑا خطرناک ہے اور اس سے سوءِ خاتمہ کا اندیشہ ہے، شامی میں  ہے ، ایک حنفی المسلک نے اہلِ حدیث(غیر مقلد) کی لڑکی سے نکاح کا پیغام بھیجا ، اس نے کہا: اگر تو اپنا مذہب چھوڑ دے ،یعنی امام کے پیچھے قراء ت اور رفعِ یدین کرے تو پیغام منظور رہے، اس حنفی المسلک نے شرط قبول کرلی اور نکاح ہوگیا ، شیخِ وقت امام ابو بکر جو زجانی رحمہ ﷲ نے یہ سنا تو افسوس کیا اور فرمایا:

"النکاح جائز ولکن أخاف علیه أن یذهب ایمانه وقت النزع؛ لأنه استخف بالمذهب الذي هو حق عنده وترکه لأجل جیفة منتة".

یعنی نکاح تو جائز ہے لیکن مجھے اس شخص کے سوءِ خاتمہ کا اندیشہ ہے کہ اس نے ایک عورت کی خاطر اس مذہب کی توہین کی جسے وہ آج تک حق سمجھتا تھا۔ محض عورت کی خاطر اسے چھوڑ دیا"۔ (شامی،باب التعزیر مطلب فیما اذا ارتحل الی مذہب غیرہ ج:3،ص:263،)مذکورہ صورت میں  اختلاف امتی رحمۃ سے استدلال صحیح نہیں  ، جان کا خطرہ ہوتو وہ جگہ چھوڑ دے ، لوگ معمولی باتوں  کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑ دیتے ہیں  ،فقط وﷲ اعلم بالصواب ۔“

(فتاوی رحیمیہ، محرمات کا بیان، ج:8،ص:211،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100260
تاریخ اجراء :07-02-2022