ترکہ پر قبضہ کرنے کا حکم

سوال کا متن:

میرے والدین حج پر گئے تھے وہیں شھید ہو گئے تھے  والدہ کے انتقال کے بعد  ان کاجو سونا تھا   وہ چچا کے پاس رکھا ہو تھا؛   کیوں کہ وہ گھر کے بڑے تھے  اور ہم ان کے پاس رہتے  تھے میری شادی کے موقع پر  اسی زیورات  میں سے  انہوں نے  چھ چوڑیا ں اور ایک سیٹ دیا تھا  اس کے علاوہ  گھریلو سامان ،شادی کے اخراجات  انہوں نے  اپنی طرف سے کئے تھے جہز کے طور پر ،  اب جب میں چچاسے اپنے والد کی وراثت کے بارے میں  بات کرتی ہوں تو وہ  کہتے ہیں کہہ جو زیورات  تمھیں  دیے گئے تھے وہ  ہی تمہارا حصہ تھا  جب کہ  میرے والد کی پراپرٹی میں  ایک دو کا ن اور یک مکان بھی ہے ، آیا ان کایہ  کہنا صحیح ہے کہ  بس یہی  تمہارا حصہ ہے یا میرے چچا پر لازم ہےکہ  وہ ہمارے والدین کا ترکہ ہمارے درمیان تقسیم کریں ؟  

جواب کا متن:

واضح رہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعداس کے ترکہ کی ہرایک چیز  میں   تمام شرعی ورثاء کا  حق ہو تا ہے،  میت کے کسی رشتہ دار کاترکہ  پر قبضہ کرنا اور اس کو غصب کر لینا  ورثاء کو ان کاحق نہیں دینا یہ سخت گناہ کا کا م ہے ۔

صورتِ  مسئولہ میں  سائلہ کے چچا کا یہ کہنا کہ   "جو زیورات شادی کے موقع پر تمھیں  دیے تھے  وہ ہی تمھا راحصہ تھا ،  والد کے متروکہ مکان اور دوکان میں سے شرعی حصہ نہیں دے رہے"، شرعًا جائز نہیں ہے، سائلہ  کے   چچاپر لازم ہے کہ ترکہ میں جتنی جائیداد  اور  چیزیں ہیں وہ سب  ورثاء میں تقسیم کریں  ؛ اس  لیے کہ ترکہ کی ہر ایک چیز  میں ہر وارث  کا حق ہے ، کسی کو اس کا حق نہ دینا یہ شرعًا جائز نہیں ہے  اور سخت   گناہ کا کام ہے۔

مشکوۃ شریف میں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة»، رواه ابن ماجه".

(باب الوصایا، الفصل الثالث 1 / 266  ط: قدیمی)

ترجمہ :"حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا، (یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و أما حكمه فالإثم و المغرم عند العلم و إن كان بدون العلم بأن ظن أن المأخوذ ماله أو اشترى عينًا ثم ظهر استحقاقه فالمغرم و يجب على الغاصب رد عينه على المالك و إن عجز عن رد عينه بهلاكه في يده بفعله أو بغير فعله فعليه مثله إن كان مثليًّا كالمكيل و الموزون فإن لم يقدر على مثله بالانقطاع عن أيدي الناس فعليه قيمته يوم الخصومة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - و قال أبو يوسف -رحمه الله تعالى -: يوم الغصب و قال محمد - رحمه الله تعالى -: يوم الانقطاع، كذا في الكافي.

و إن غصب ما لا مثل له فعليه قيمة يوم الغصب بالإجماع، كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الغصب، ‌‌الباب الأول في تفسير الغصب وشرطه وحكمه، 5/ 119/دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے :

"أي تلك الأصول حقّ کلّ أي کلّ واحد  من الورثة: أي قدر ما یستحقه من  التركة و لایخفی أنّ من تلك الأصو ل الموصوفة بما ذكر الأصول المتعلقة بالمنع من المیراث و الحجب."

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100088
تاریخ اجراء :05-02-2022