عاریت کے طور مکان میں کسی کو تعمیر کی اجازت دینا اور پھرمکان واپس لینے کا حکم

سوال کا متن:

میرےبھائی امریکا کے شہری ہیں ،انہوں نے 1994ء میں ایک گھر کراچی میں خریدا اور اس کو میرے اور چھوٹے بھائی کے نام کردیا،اس کےبعد میں نے ان کی اجازت سے دوسرا فلور تعمیر کروایا اور چوبیس سال سے وہاں اپنی فیملی کےساتھ رہ رہا ہوں،اب انہوں نے کچھ عرصہ پہلے گھر اپنے نام ٹرانسفر کروالیا ہے اور ابھی مجھے اس گھر کو خالی کرنے کا کہہ رہے ہیں،میرا گمان ہے کہ وہ اس کو کرایہ پر دینا چاہ رہے  ہوں گے ،جو فلور میں نے تعمیر کیا ہے ،وہ بھی انہی کے نام ہے۔شرعی طور پر راہ نمائی فرمائیں کہ اس کا کیا حکم ہے۔

وضاحت:جب گھر ہمارے نام پر تھا،ہم یہی سمجھتے تھے کہ گھر ان کا ہے،صرف ہمارے نام پر ہے۔

جواب کا متن:

صورتِ مسؤلہ میں جب گھر سائل کے بھائی کا ہے جو امریکا میں رہائش پذیر ہے، اور سائل نے مذکورہ گھر میں بھائی کی اجازت سے اپنے لیے دوسرا فلور تعمیر کرایا تھاتو اس کی حیثیت عاریت کی تھی ،اور عاریت کا حکم یہ ہے کہ عاریت پر دینے والا جب اپنی چیز واپس لینا چاہے تو واپس لے سکتاہے؛لہٰذا   سائل کے بھائی کو یہ حق حاصل ہےکہ وہ سائل کو  تعمیرات ہٹانے کا کہے،لیکن اس میں کسی کا کوئی فائدہ نہیں ،اس لیے مصالحت کی کوئی صورت اختیار کی جائے،مثال کے طورپرسائل اپنے بھائی سے مکمل مکا ن خرید لے یا سائل کا بھائی سائل سے دوسرا فلور خرید لے۔

فتاوی تنقیح الحامدیۃ میں ہے:

"(سئل) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه وعن ورثة غيره فهل يكون القصر لبانيه ويكون كالمستعير؟

(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ۔"

(كتاب العارية،2/ 81،ط:دار المعرفة)

وفي الدر المختار و حاشية ابن عابدين :

"(ولو أعار أرضا للبناء والغرس صح) للعلم بالمنفعة (وله أن يرجع متى شاء) لما تقرر أنها غير لازمة (ويكلفه قلعهما إلا إذا كان فيه مضرة بالأرض فيتركان بالقيمة مقلوعين) لئلا تتلف أرضه."

(كتاب العارية،5/ 681،ط:سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما صفة الحكم فهي أن الملك الثابت للمستعير ملك غير لازم؛ لأنه ملك لا يقابله عوض، فلا يكون لازما كالملك الثابت بالهبة، فكان للمعير أن يرجع في العارية سواء أطلق العارية أو وقت لها وقتا، وعلى هذا إذا استعار من آخر أرضا ليبني عليها أو ليغرس فيها، ثم بدا للمالك أن يخرجه فله ذلك سواء كانت العارية مطلقة أو موقتة، لما قلنا غير أنها إن كانت مطلقة له أن يجبر المستعير على قلع الغرس ونقض البناء؛ لأن في الترك ضررا بالمعير؛ لأنه لا نهاية له، وإذا قلع ونقض لا يضمن المعير شيئا من قيمة الغرس والبناء؛ لأنه لو وجب عليه الضمان لوجب بسبب الغرور، ولا غرور من جهته، حيث أطلق العقد

ولم يوقت فيه وقتا فأخرجه قبل الوقت، بل هو الذي غرر نفسه حيث حمل المطلق على الأبد."

(كتاب العارية،فصل في صفة الحكم في الإعارة،6/ 216، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100093
تاریخ اجراء :06-02-2022