نشے کی حالت میں طلاق کا حکم / تین طلاقوں کے بعد مطلقہ کے لیے شوہر کے گھر میں رہنے کا حکم

سوال کا متن:

میرا بھائی شراب کا عادی ہے، ایک دفعہ اس نے پوری رات شراب پی اور صبح فجر میں بھی شراب پی رہا تھا، اس وقت اس کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا تو اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، یہ الفاظ بولے کہ جا، میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تین مرتبہ یہ الفاظ استعمال کیے، بعد میں جب اس سے پوچھا کہ یہ تو نے کیا کیا؟ تو اس نے کہا کہ مجھے ہوش ہی نہیں تھا کہ میں نے اس وقت کیا کہا ہے۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

نیز ہمارا گھر پورشنوں میں بنا ہوا ہے، پہلے پورشن پر میں رہتا ہوں، دوسرے پورشن پر وہ بھائی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا اور تیسرے پورشن پر والدہ رہتی ہیں، اب میرا بھائی چاہ رہا ہے کہ اگر طلاق ہوچکی ہے تو  وہ والدہ کے ساتھ تیسرے پورشن پر رہائش اختیار کرے اور اس کی بیوی، بچے پہلے کی طرح دوسرے پورشن پر رہتے رہیں۔کیا یہ صورت جائز ہے؟

جواب کا متن:

واضح رہے کہ نشے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل کا بھائی اپنی بیوی سے یہ الفاظ "جا، میں تجھے طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ کہہ چکا ہے تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، مطلقہ اب حرمتِ مغلظہ کے ساتھ سائل کے بھائی پر حرام ہوچکی ہے، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے۔

سائل کا بھائی اگر والدہ کے ساتھ الگ پورشن میں رہائش اختیار کرے، مطلقہ الگ پورشن میں بچوں کے ساتھ رہے، سائل کے بھائی کا اپنی مطلقہ سے آمنا سامنا بالکل نہ ہو، کسی قسم کے فتنے اور گناہ کا بھی اندیشہ نہ ہوتو ان تمام شرائط کی پابندی کے ساتھ مطلقہ اپنی اولاد کے ساتھ مذکورہ گھر (کے دوسرے پورشن) میں رہ سکتی ہے، اور اگر گناہ کا اندیشہ ہو یا بے پردگی ہو تو اس صورت میں مطلقہ کے لیے مذکورہ گھر میں رہنا شرعاً جائز نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"طلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط۔۔۔أجمعوا أنه لو سكر من البنج أو لبن الرماك ونحوه لا يقع طلاقه وعتاقه كذا في التهذيب. ومن سكر من البنج يقع طلاقه ويحد لفشو هذا الفعل بين الناس وعليه الفتوى في زماننا كذا في جواهر الأخلاطي۔۔۔ومن شرب من الأشربة المتخذة من الحبوب والعسل فسكر وطلق لا يقع عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى خلافا لمحمد - رحمه الله تعالى - ويفتى بقول محمد - رحمه الله تعالى - كذا في فتح القدير۔"

(فتاوی ہندیہ، ج: کتاب الطلاق، الباب الاول، ص: 353، ط: مکتبہ رشیدیہ)

و فیہ ایضاً:

"إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔"

(فتاوی ہندیہ، ج: 1، کتاب الطلاق، الباب السادس فی الرجعۃ، فصل فیما تحل بہ المطلقہ، ص: 473، ط: مکتبہ رشیدیہ)

درِ مختار میں ہے:

"لهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش و لايلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف۔"

رد المحتار میں ہے:

"(قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك والظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط۔"

(رد المحتار، ج: 3، کتاب الطلاق، باب العدۃ، فصل فی الحداد، ص: 538، ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100529
تاریخ اجراء :09-02-2022