اسکول ٹیچر کاسستی کی وجہ سے کچھ اسباق (کلاسیں ) نہ پڑھانا

سوال کا متن:

میں اسکول ٹیچر ہوں،روزانہ میرے ذمہ  5کلاس لگتی ہیں، لیکن میں روزانہ1کلاس سستی کی وجہ سے چھوڑتا ہوں اور ہفتے میں بلا اجازت سارے دن کی کلاسسز چھوڑتا ہوں،یعنی کہ اپنی ڈیوٹی صحیح طریقے سے پورا نہیں کرتا،اس کے ساتھ میں ا سکول میں نماز بھی پڑھاتا ہوں، اب سوال یہ ہے کہ  میرے اقتداء میں نماز ہو سکتی ہے؟

جواب کا متن:

صورت مسئولہ  میں سائل کو چاہیے کہ وہ اپنے  مکمل مقررہ وقت میں حاضر ہو اور اپنے ذمہ تمام  مفوضہ اسباق (کلاسیں )پڑھائے ،اگر اس میں سستی کی وجہ سے کوتاہی ہورہی ہےاور سائل اپنی ذمہ داری مکمل نہیں کررہاہے  تو جتنی کوتاہی ہورہی ہے اس کے بقدر تنخواہ  اسکول سے  نہ لے، باقی سائل اگر جماعت کی نماز میں امامت کرواتاہے تواس کی اقتدا میں نماز ادا ہوجائے گی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

" وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل.

(قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة. (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة."

( كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، مبحث الأجير الخاص، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، جلد:6، صفحہ: 70،  طبع: دار الفكر )

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144509100262
تاریخ اجراء :13-03-2024