میری طرف سے یہ آزاد ہے کہنے سے طلاق کا حکم

سوال کا متن:

میں نے اپنی بیوی کو میری مرضی کے خلاف کام کرنے سے روکا، وہ میری مرضی کے بغیر شہر سے باہر چلی گئی، مجھے معلوم ہوا تو میں نے اپنی کو فون کرکے کہا کہ : ”میری طرف سے یہ آزاد ہے“، کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے؟

جواب کا متن:

صورتِ  مسئولہ میں سائل نے  اپنی بیوی  کے، اپنی مرضی کے خلاف شہر سے باہر چلے جانے  پر بیٹی کو فون کرکے  بیوی کے بارے میں یہ کہا  کہ :”میری طرف سے یہ آزاد ہے“تو اس سے  سائل  کی بیوی پر ایک طلاقِ  بائن واقع ہوگئی ہے  اور دونوں کا   نکاح ختم ہوگیا ہے، مطلّقہ اپنی  عدت (مکمل تین  ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور حمل ہونے کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک) مکمل کرکے شرعاً  دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

اور اگر  دونوں میاں بیوی  باہمی رضامندی سے دوبارہ  ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نئے مہر اور شرعی گواہان کے روبرو  از سرِ نو ایجاب وقبول کرکے  دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں،   اور تجدید نکاح کے بعد  آئندہ کے لیے شوہر کو  صرف  دو طلاق کا حق حاصل ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وكونه التحق بالصريح للعرف لاينافي وقوع البائن به، فإن الصريح قد يقع به البائن كتطليقة شديدة ونحوه: كما أن بعض الكنايات قد يقع به الرجعي، مثل اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة.

والحاصل أنه لما تعورف به الطلاق صار معناه تحريم الزوجة، وتحريمها لا يكون إلا بالبائن، هذا غاية ما ظهر لي في هذا المقام، وعليه فلا حاجة إلى ما أجاب به في البزازية من أن المتعارف به إيقاع البائن، لما علمت مما يرد عليه، والله سبحانه وتعالى أعلم".

(3 /300، باب الکنایات، ط؛ سعید)

وفيہ ايضا:

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".

(3/ 409، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ط: سعيد)

فقط والله اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144307100996
تاریخ اجراء :15-02-2022